اسکالرشپ پروگرام پر طلبہ کا شدید احتجاج

newsdesk
2 Min Read
بلوچستان کے طلبہ نے اسکالرشپ پروگرام میں غیر یقینی صورتحال کے خلاف ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے باہر احتجاج کیا، فوری وضاحت اور تسلیم شدہ ڈگری کا مطالبہ

طلبہ کا احتجاج: 36 ملین ڈالر اسکالرشپ پروگرام تنازعے کا شکار، ڈگری کے مطالبے میں شدت

اسلام آباد: بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے عالمی بینک کے تعاون سے جاری اسکالرشپ پروگرام میں بے یقینی کے خلاف ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے باہر احتجاج کیا، مرکزی دروازہ بند کر دیا اور اپنے تعلیمی مستقبل کے حوالے سے فوری وضاحت کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ انہیں نرسنگ ڈگری کے وعدے پر لایا گیا تھا، تاہم اب سرٹیفکیٹ دینے کی بات کی جا رہی ہے۔ طلبہ کے مطابق گزشتہ دو برس سے وہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں اور مختلف حکام کی جانب سے متضاد بیانات دیے جا رہے ہیں۔

طلبہ نے الزام عائد کیا کہ پروگرام کے آغاز میں تقریباً 150 اسکالرشپس کا اعلان کیا گیا تھا، مگر اس وقت صرف 126 سے 127 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ ان کے مطابق پروگرام کو دو سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری کے طور پر پیش کیا گیا تھا، جس کے بعد اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے کا راستہ بھی موجود ہونا تھا۔

مظاہرین نے مزید کہا کہ انہیں مختلف شعبہ جات میں داخل کیا گیا، تاہم بعد ازاں کئی پروگرامز کو ضم کر دیا گیا جبکہ متعلقہ کونسلز سے رجسٹریشن کے حوالے سے بھی کوئی واضح پیش رفت نہیں ہو سکی۔

طلبہ نے مطالبہ کیا کہ انہیں تسلیم شدہ ایسوسی ایٹ ڈگری، ٹرانسکرپٹس، مزید تعلیم کے لیے این او سی اور متعلقہ اداروں میں باقاعدہ رجسٹریشن فراہم کی جائے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان، عالمی بینک، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور دیگر حکام سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

Copy From: $36m Balochistan Scholarship Under Scrutiny as Students Protest Outside Health Services Academy – Peak Point

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے