حکومت اور کمپنیوں سے تیز انٹرنیٹ کی اپیل

newsdesk
4 Min Read
پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن نے حکومت اور سروس پرووائیڈرز سے فری لانسرز اور گیگ کارکنان کے لیے تیز اور مستحکم انٹرنیٹ کی فوری فراہمی کی اپیل کی۔

تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی یقینی بنائی جائے، فری لانسرز ایسوسی ایشن کا حکومت اور کمپنیوں سے مطالبہ

کراچی: پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن (PAFLA) نے حکومت اور انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ ملک بھر میں بلا تعطل اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ ڈیجیٹل معیشت، خصوصاً فری لانسرز اور گیگ اکانومی سے وابستہ افراد کو درپیش مسائل کم کیے جا سکیں۔

ایسوسی ایشن کے چیئرمین ابراہیم امین نے کہا کہ انٹرنیٹ کی مسلسل سست رفتاری فری لانسرز اور آن لائن کام کرنے والے افراد کی پیداواری صلاحیت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے، حالانکہ یہ طبقہ ملک میں قیمتی زرمبادلہ لانے اور بے روزگاری میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ سست اور غیر مستحکم انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ بجلی کی بار بار بندش نے فری لانسرز کے لیے کام کے حالات مزید مشکل بنا دیے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث بہت سے افراد اپنے منصوبے بروقت مکمل نہیں کر پاتے، جس سے نہ صرف ان کی پیشہ ورانہ ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ آن لائن پلیٹ فارمز پر ان کی درجہ بندی بھی متاثر ہوتی ہے۔

ابراہیم امین نے مزید کہا کہ گیگ اکانومی سے وابستہ ہزاروں افراد، جن میں رائیڈ ہیلنگ ڈرائیورز اور فوڈ ڈیلیوری ورکرز شامل ہیں، بھی سست انٹرنیٹ کے باعث مشکلات کا شکار ہیں، جس کا براہِ راست اثر ان کی آمدنی اور متعلقہ شعبوں کی کارکردگی پر پڑتا ہے۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ایک بڑی انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنی نے حال ہی میں اپنے سب میرین کیبل کی مرمت کے لیے تقریباً ایک ہفتے کی مینٹیننس کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار متاثر ہوا۔

مسائل کے حل کے لیے انہوں نے تجویز دی کہ حکومت متبادل کے طور پر سیٹلائٹ بیسڈ انٹرنیٹ سروسز متعارف کروائے تاکہ سب میرین کیبل میں خرابی کی صورت میں بھی انٹرنیٹ کی فراہمی متاثر نہ ہو۔

ایشین ڈویلپمنٹ بینک (ADB) کے مطابق پاکستان میں 23 لاکھ 70 ہزار سے زائد فری لانسرز موجود ہیں، جو اسے دنیا کے نمایاں ممالک میں شامل کرتا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق، فری لانسرز نے آئی ٹی اور متعلقہ خدمات کے ذریعے 800 ملین ڈالر سے زائد زرمبادلہ کمایا ہے، باوجود اس کے کہ انہیں سست انٹرنیٹ اور لوڈشیڈنگ جیسے مسائل کا سامنا رہا۔

ہر ماہ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی تربیت کے ذریعے بڑی تعداد میں افراد فری لانسنگ کے شعبے میں شامل ہو رہے ہیں، جس سے ملکی معیشت کو مزید تقویت مل رہی ہے۔ اس حوالے سے وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن، پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل جیسے اداروں کا کردار نہایت اہم قرار دیا گیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے امید ظاہر کی کہ مستقبل قریب میں فائیو جی ٹیکنالوجی کے آغاز سے انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں بہتری آئے گی، جس سے فری لانسرز، کانٹینٹ کریئیٹرز اور دیگر آن لائن پیشہ ور افراد کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے