غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کو درپیش مسائل، پیشہ ورانہ ترقی متاثر ہونے کا خدشہ

newsdesk
3 Min Read
پردیسی طبی فارغ التحصیل عارضی رجسٹریشن تاخیر، تربیتی نشستوں میں کمی اور بے اجرت ہاؤس جابز سے متاثر، متعلقہ حکام سے مذاکرات جاری ہیں

اسلام آباد: پاکستان میں غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس (FMGs) کو درپیش مسائل ایک بار پھر سامنے آ گئے ہیں، جہاں تاخیر، محدود مواقع اور انتظامی رکاوٹیں نوجوان ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ ترقی پر اثرانداز ہو رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ پروویژنل رجسٹریشن (PRMP) کے اجرا میں تاخیر ہے۔ متعدد گریجویٹس جنہوں نے 2 سے 3 ماہ قبل درخواستیں جمع کروائیں اور نیشنل رجسٹریشن امتحان (NRE) بھی کامیابی سے پاس کیا، تاحال منظوری کے منتظر ہیں۔

مزید برآں، ایف سی پی ایس (FCPS) پروگرامز میں تربیتی مواقع کے حوالے سے بھی نمایاں عدم توازن پایا جاتا ہے، جہاں امتحان پاس کرنے کے باوجود غیر ملکی گریجویٹس کو صرف تقریباً 1.2 فیصد نشستیں ہی مل پاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بغیر معاوضہ ہاؤس جاب اور بعض اہل امیدواروں کو NRE میں بیٹھنے سے روکنے جیسے معاملات بھی تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔

یہ مسائل اس وقت مختلف فورمز پر زیر بحث ہیں کیونکہ یہ ان نوجوان ڈاکٹروں کی بڑی تعداد کو متاثر کر رہے ہیں جنہوں نے اپنی طبی تعلیم پر خطیر سرمایہ خرچ کیا ہے۔ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ پالیسی سطح پر فوری اور مؤثر اصلاحات متعارف کروائی جائیں تاکہ غیر ملکی گریجویٹس کو منصفانہ مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

ڈاکٹر رفیع شیر نے ان مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایف ایم جیز کے نمائندہ وفود کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور ان کے مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیرِ قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ، مصطفیٰ کمال، ایک مثبت وژن کے تحت پاکستان کے صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہیں، اور ایف ایم جی کمیونٹی کو امید ہے کہ متعلقہ حکام اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) اس مسئلے کے حل میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔

مزید برآں، ایف ایم جی وفود اس وقت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے رابطے میں ہیں تاکہ قابلِ عمل حل تلاش کیے جا سکیں۔ اس سے قبل بھی ان مسائل کو اجاگر کیا جا چکا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس معاملے پر مسلسل پیش رفت کی کوششیں جاری ہیں۔

ایف ایم جی کمیونٹی نے امید ظاہر کی ہے کہ متعلقہ اداروں کے ساتھ جاری مکالمہ جلد مثبت نتائج دے گا اور ملک میں تمام میڈیکل گریجویٹس کے لیے یکساں مواقع کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے