اسلام آباد میں ایچ آئی وی کیسز کی وضاحت

newsdesk
5 Min Read
وفاقی وزارتِ صحت کی وضاحت کہ اسلام آباد میں رجسٹرڈ 15 ماہ کے 618 مریض وبائی صورت حال نہیں، ماہانہ رجسٹریشن معمول کے مطابق ہے۔

وفاقی وزارتِ قومیِ صحت کے مشترکہ انتظامی یونٹ نے اسلام آباد سے سامنے آنے والی اطلاعات کا بغور جائزہ لینے کے بعد واضح کیا ہے کہ میڈیا میں جاری کردہ اعداد و شمار کو کسی اچانک وبائی صورتحال سے جوڑنا غیر درست ہے۔ جن اعداد و شمار کا حوالہ دیا گیا وہ پندرہ ماہ کے عرصے میں اسلام آباد کے طبی مراکز میں نئے مریضوں کی مجموعی تعداد پر مبنی تھے، نہ کہ کسی ایک ماہ میں غیر معمولی اضافے پر۔ ایچ آئی وی سے متعلق رجسٹریشن میں اضافہ دراصل بہتر جانچ اور طبی سہولیات تک رسائی کا ثبوت ہے۔جنوری 2025 سے مارچ 2026 کے درمیان اسلام آباد کے مراکز میں ماہانہ نئے مریضوں کی تعداد مختلف رہی لیکن حد درجہ بلند اعداد کی کوئی عکاسی نہیں کی گئی؛ سب سے کم اندراج 31 اور سب سے زیادہ 63 رہا جبکہ مجموعی تعداد 618 ہے۔ یہ ماہانہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ ریجسٹریشن کی شرح عمومی طور پر معمول کے مطابق رہی اور وقتاً فوقتاً اتار چڑھاؤ عام طبی رجحان ہے۔اعداد و شمار کی مزید جانچ سے معلوم ہوا کہ ان 618 مریضوں میں سے صرف 210 افراد کا تعلق براہِ راست وفاقی دارالحکومت سے تھا، جب کہ باقی رجسٹرڈ مریض مختلف شہروں سے علاج کے لیے آئے تھے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اور پولی کلینک جیسے بڑے سرکاری ہسپتال ملک کے دیگر علاقوں سے آنے والے مریض بھی طبی سہولت دینے کے باعث مریضوں کی یہ کثرت ظاہر کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان تمام رجسٹرڈ مریضوں کو محض اسلام آباد کا مسئلہ تصور کرنا درست نہیں۔وزارتِ صحت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایچ آئی وی کے زیادہ رجحانات بعض مخصوص گروپوں میں پائے گئے ہیں اور عام رجسٹر ہونے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ بیماری کے پھیلاؤ کی علامت نہیں بلکہ تشخیص اور علاج تک بہتر رسائی کی عکاسی ہے۔ فوری تشخیص اور موثر علاج کے ذریعے عوامی صحت کے بہتر نتائج ممکن بنائے جا رہے ہیں۔وزارت نے پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے ساتھ قریبی رابطے کے ساتھ واقعے کی اعلیٰ سطح پر شفاف تحقیقات، انفیکشن کنٹرول کے ضابطوں پر سختی، صوبہ بھر کے ہسپتالوں کے جامع معائنے اور آڈٹ، اور غفلت برتنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی کے اقدامات کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ مراسلے میں غیر مجاز عملے کے کلینیکل کام میں ملوث ہونے پر پابندی، عطائیوں کے خلاف سخت کارروائی اور خون کی غیر محفوظ منتقلی کی روک تھام پر زور دیا گیا ہے۔وفاقی سیکرٹریِ صحت کی صدارت میں تمام صوبائی ہیلتھ کیئر کمیشنز کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جا رہا ہے تاکہ ہسپتالوں میں حفاظتی معیار کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ تکنیکی معاونت میں انفیکشن کنٹرول کے رہنما اصول، نگرانی کے نظام کی بہتری اور متاثرہ بچوں کے علاج کی سہولتیں شامل ہیں۔ عالمی ادارہ صحت اور یونیسف کے اشتراک سے مربوط حکمتِ عملی پر عمل جاری ہے جبکہ صوبائی حکام کو تحصیل سطح پر خون کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کی ہدایات بھی دی جا چکی ہیں۔وزارتِ صحت نے واضح کیا ہے کہ ملک بھر کے سرکاری و نجی طبی مراکز میں، خاص طور پر ہائی رسک اضلاع میں، انفیکشن کنٹرول کے اصولوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ غیر محفوظ ٹیکوں اور ڈرپس کے استعمال کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی، طبی عملے کے لیے قومی سطح پر تربیتی پروگرام، ایچ آئی وی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا اور ڈسپوزایبل سرنجوں و طبی سامان کی مستقل فراہمی کے اقدامات تیز کیے جائیں گے۔ عوام کو بھی غیر ضروری انجیکشن اور ڈرپس سے روکنے کیلئے شعور پیدا کرنے کی مہم چلائی جائے گی۔وزارتِ صحت کا موقف ہے کہ دستیاب اعداد و شمار کی روشنی میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کوئی وبائی صورتحال کا ثبوت نہیں، تاہم حفاظتی اور احتیاطی اقدامات فوری طور پر نافذ کئے جا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی مکمل روک تھام ممکن بنائی جا سکے اور عوام کی صحت کو اولین ترجیح دی جائے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے