پنجاب حکومت نے رواں سال منعقد ہونے والے تین سو ستائیسویں ویساکھی میلے کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے اور صوبائی سطح پر سیکورٹی، رہائش، ٹرانسپورٹ اور انتظامی حکمت عملی پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ویساکھی میلہ دس اپریل سے انیس اپریل تک جاری رہے گا اور اس دوران ملک بھر اور بیرون ممالک سے آنے والے زائرین کے تحفظ اور آرام کو اولین ترجیح دی جائے گی۔سرکاری بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس بار تقریباً بیس ہزار ملکی زائرین، تین ہزار بھارتی اور تین ہزار دیگر ممالک کے زائرین شرکت کا امکان ہے، جن میں سکھ عقیدت مند اہم مذہبی مقامات جیسے لاہو ر، ننکانہ صاحب، حسن ابدال، امن آباد، فاروق آباد اور کرتارپور نارووال کا فریضہ ادا کریں گے۔ ویساکھی میلہ میں شرکت کرنے والے زائرین کے لیے رہائش، صفائی و ستھرائی اور بنیادی سہولیات کو خاص طور پر یقینی بنایا جائے گا۔خواجہ سلمان رفیق اور سردار رمیش سنگھ اورورا کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں شرائنس کے اضافی سیکرٹری نصیر مشتاق نے میلے کی عملی تاریخوں اور متوقع شرکاء کے اعداد و شمار سے شرکاء کو آگاہ کیا جبکہ سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے بین الاقوامی زائرین کے لیے بہترین مہمان نوازی اور سیکیورٹی کو صوبے کے عالمی وقار کے تناظر میں ضروری قرار دیا۔ ویساکھی میلہ کے انتظامات میں معمر افراد کے لیے الگ کاؤنٹر، اضافی بیت الخلاء، ایئر کنڈیشنڈ میارکس، طبی سہولیات اور ایمبولینس کی دستیابی کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔اجلاس میں ٹرانسپورٹ کے حوالے سے ہدایت دی گئی کہ تمام گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ یقینی بنائے جائیں اور میلے کے دوران بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ زائرین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ساتھ ہی بڑے پیمانے پر لنگر کے انتظام، لگژری بسوں سے آمد و رفت اور مصدقہ زرِ مبادلہ ڈیلرز کے انتخاب پر زور دیا گیا تاکہ زائرین کو مالی معاملات میں سہولت میسر ہو۔سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے محکمہ داخلہ پنجاب کے اعلیٰ حکام کے علاوہ پولیس، رینجرز، ایف آئی اے، کسٹمز، ریسکیو ایک ہزار ایک سو بائیس، محکمہ صحت اور محکمہ ٹرانسپورٹ کے نمائندہ بھی موجود تھے۔ صوبائی کمشنرز، آر پی اوز، ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی اور ہر ضلع میں مربوط انتظامات کے عملی نقشے تیار کرنے کی ہدایات دی گئیں۔ ویساکھی میلہ کے دوران سیکورٹی اور انتظامات کی کڑی نگرانی کے لیے مربوط کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔اجلاس میں زور دیا گیا کہ مذہبی حساسیت کا احترام اولین ترجیح ہو اور ایسا ماحول فراہم کیا جائے کہ سکھ زائرین اپنے مذہبی فرائض امن و امان کے ساتھ ادا کر سکیں۔ اس موقع پر حکام نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ تعاون اور ٹیم ورک کے ذریعے پاکستان کی مثبت تصویر بین الاقوامی سطح پر اجاگر کریں۔ ویساکھی میلہ کی کامیاب میزبانی کے ذریعے صوبہ پنجاب اور ملک کے روایتی بین المذاہب احترام کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔متوقع شرکاء کی سہولت کے لیے انتظامیہ نے طبی ٹیمیں، ایمبولینس سروس اور ہنگامی صورتِ حال کے لیے ریلیف انتظامات پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے تاکہ ویساکھی میلہ امن و امان اور بہترین لوجسٹک سہولتوں کے ساتھ منعقد ہو۔ ویساکھی میلہ کے حوالے سے مقررہ تاریخوں میں آنے والے ملکی و غیر ملکی زائرین کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
