پاکستان فلسفی انجمن نے اپنی دوسری سالگرہ عید ملن پارٹی کے موقع پر منعقدہ چوبیسویں ماہانہ اجلاس کے ساتھ منائی، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی تعدادِ وار حاضرین نے شرکت کی۔ محفل میں علمی و سماجی شعبوں کے معروف افراد نے شرکت کی اور ملاقات کے دوران تبادلۂ خیال کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ پروگرام پاکستان فلسفی انجمن کے مقصد کو اجاگر کرتا ہے کہ وہ معاشرے کے ممتاز افراد کو ماہانہ بنیادوں پر مدعو کرکے علمی گفتگو اور تجربات کے تبادلے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرے۔ڈاکٹر محمد جاوید اقبال ندیم نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور اس دن کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسفی انجمن کا قیام ان افراد کا نتیجہ ہے جو فلسفہ سے وابستہ ہیں اور آج انجمن اپنی دوسری سالگرہ منا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انجمن کے ماہانہ اجلاسوں میں ماہرین و پیشہ ور افراد کو لیکچر دینے کے لیے بلایا جاتا ہے تاکہ شرکاء مختلف شعبوں کے تجربات سے مستفید ہوسکیں اور فکری مباحثے کو فروغ ملے۔تقریب میں جن معزز شخصیات نے شرکت کی ان میں غالب علی بندیشہ سابق انسپکٹر جنرل، ڈاکٹر اکرم چودھری, پروفیسر ڈاکٹر شہینہ عاصف چودھری, شہزاد بھٹا سابق ڈائریکٹر خصوصی تعلیم پنجاب، تنویر عباس تابش, ڈاکٹر افتخار احمد بخاری, ڈاکٹر رضوانہ خلیل, جاوید اقبال بھٹی, نصیف اعوان اور پروفیسر عطیہ سید شامل تھے۔ دیگر شرکاء میں سید قمر عباس شاہ, ڈاکٹر ادریس رانا, عشرت شمیم, عظمہ زرین نازیہ, ڈاکٹر ساجد علی, ڈاکٹر اعجاز حق اعجاز, ظفر اقبال بھٹی وکیل, ظفر اقبال چودھری وکیل, ڈاکٹر محمود افزل وکیل, منظور احمد چودھری, نبیلہ اکبر, محمد داؤد طاہر وغیرہ شامل تھے جنہوں نے تقریب کو رونق بخشی۔ڈاکٹر محمد جاوید اقبال ندیم نے فلسفے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فلسفہ دنیا اور انسانی زندگی کے بنیادی سوالات کے معقول اور منطقی جوابات تلاش کرتا ہے، یہ حکمت، حقیقت، وجود، علم، اخلاق، منطق اور عقل سے محبت کی نمائندگی کرتا ہے اور چیزوں کے اسباب اور طریقوں کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ پاکستان فلسفی انجمن نے اس کوشش کو جاری رکھتے ہوئے علمی مکالمے اور فکری تبادلوں کو فروغ دینے کا عندیہ دیا۔پروفیسر ڈاکٹر شہینہ عاصف چودھری نے ڈاکٹر جاوید اقبال ندیم کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ آج کے مصروف دور میں سینئر پیشہ ور افراد کو یکجا کرنا بلاشبہ ایک قابلِ تعریف قدم ہے۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر شہینہ عاصف چودھری نے معزز مہمانوں کو یادگاری شیلڈز پیش کیں اور پروگرام کے اختتام پر پاکستان فلسفی انجمن کی دوسری سالگرہ کی یاد میں تمام شرکاء کو خصوصی یادگاری شیلڈز پیش کیے گئے، جس پر شرکاء نے انجمن کی مستقل کوششوں کو سراہا اور مستقبل میں بھی ایسے علمی اجتماعات جاری رکھنے کی امید ظاہر کی۔
