پاکستان کی ویمن لیکروس ٹیم نے ریاض، سعودی عرب میں منعقدہ ایشین لیکروس گیمز ۲۰۲۶ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سلور میڈل حاصل کر کے تاریخ رقم کی۔ اس اعزاز کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان نے پہلی بار لیکروس کے بین الاقوامی میدان میں باضابطہ نمائندگی کی اور فوری طور پر مین اسٹیج پر جگہ بنا لی۔ٹورنامنٹ کے دوران پاکستان ویمن لیکروس ٹیم نے تجربہ کار آسیائی حریفوں کے خلاف جاندار مقابلے کیے اور محدود وسائل کے باوجود نظم و ضبط اور حوصلے کی بدولت فائنل تک رسائی حاصل کی۔ ٹیم کے پاس کسی بھی میچ میں متبادل کھلاڑی موجود نہ ہونے کے باوجود انہوں نے ثابت قدمی دکھائی اور ہر میچ میں پورا جوش و خروش دکھایا۔فضا ظہیر نے ٹورنامنٹ میں غیر معمولی فارم دکھائی اور مجموعی طور پر دو درجن کے برابر ۲۴ گول اسکور کر کے پوری مقابلہ بازی میں سب سے زیادہ گول کرنے والی کھلاڑی ثابت ہوئیں، جس نے پاکستان کی فتح کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔میڈلز کی تقسیم کی تقریب میں سعودی لیکروس فیڈریشن کے صدر فہد نے شرکت کی اور پاکستانی کھلاڑیوں کو اپنے ہاتھوں سے میڈلز پہنائے، جس سے اعزاز کی وقعت اور بڑھ گئی۔ یہ لمحہ نہ صرف کھلاڑیوں کے لیے بلکہ ملک کے لیے فخر کا باعث تھا۔ٹیم کی کامیابی میں کوچ عرفان خان اور ٹیم منیجر سید محمد الیاس شاہ کی محنت اور حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ تھا۔ ان کی رہنمائی اور انتظامی صلاحیتوں نے محدود وسائل میں بھی ٹیم کو باوقار انداز میں میدان فراہم کیا اور ہر کھلاڑی کو بہترین کارکردگی کا موقع ملا۔نمائندگی کی ذمہ داری چیف ڈی مشن انجینئر طائفور زرین نے سنبھالی، جن کی قیادت نے ٹیم کو باوقار اور منظم انداز میں بین الاقوامی سطح پر پیش کیا۔ پاکستان لیکروس فیڈریشن کے صدر منصور احمد خان نے اس سلور میڈل کو خواتین کھیلوں اور ملک میں لیکروس کے فروغ کے لیے بڑا سنگِ میل قرار دیا۔یہ سنگِ میل پاکستان میں ویمن لیکروس ٹیم کے مستقبل کے امکانات کو روشن کرتا ہے اور نوجوان لڑکیوں کو کھیلوں میں آگے آنے کی ترغیب دے گا۔ محدود وسائل کے با وجود حاصل کردہ یہ کامیابی ملک میں لیکروس کے فروغ اور خواتین کھیلوں کی ترقی کے لیے ایک نیا باب کھولتی ہے۔
