کراچی: معروف فلم ساز شرمین عبید چنائے کی تنظیم ایس او سی فلمز اور لیگل ایڈ سوسائٹی نے کم عمری کی شادی کے خلاف آگاہی اور وکالت پر مبنی ایک جامع مہم شروع کرنے کے لیے دو سالہ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس مہم کا آغاز سندھ اور خیبر پختونخوا سے کیا جائے گا، جس کا مقصد کم عمری کی شادی جیسے سنگین سماجی مسئلے سے نمٹنے کے لیے عوامی شعور بیدار کرنا اور قانونی اصلاحات کو فروغ دینا ہے۔
اس شراکت داری کے تحت ایس او سی فلمز کی کہانی بیان کرنے اور عوامی رابطے کی مہارت کو لیگل ایڈ سوسائٹی کی قانونی معاونت اور انسانی حقوق سے متعلق سرگرمیوں کے ساتھ جوڑا گیا ہے تاکہ پاکستان میں کم عمری کی شادی جیسے پیچیدہ اور دیرینہ مسئلے کا مؤثر حل تلاش کیا جا سکے۔
ایس او سی فلمز کی بانی اور سربراہ شرمین عبید چنائے کا کہنا تھا کہ کم عمری کی شادی وہاں برقرار رہتی ہے جہاں خاموشی اور قانونی خلا ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیگل ایڈ سوسائٹی کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ایس او سی فلمز کہانیوں کے ذریعے قانون پر عمل درآمد میں موجود خلا کو اجاگر کرے گی اور بامعنی اصلاحات کی راہ ہموار کرے گی تاکہ ہر بچے کے تحفظ کا حق صرف کاغذوں تک محدود نہ رہے بلکہ عملی طور پر بھی یقینی بنایا جا سکے۔
لیگل ایڈ سوسائٹی کی نمائندہ حیا ایمان زاہد نے کہا کہ کم عمری کی شادی صرف سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین قانونی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق ہر کم عمری کی شادی دراصل ایک بچپن کی چھینتی ہوئی خوشی اور ادھورا رہ جانے والا مستقبل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس او سی فلمز کے ساتھ اس شراکت داری کے ذریعے قانون، ذرائع ابلاغ اور سماجی رابطوں کی طاقت کو یکجا کیا جا رہا ہے تاکہ قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے اور متاثرہ بچوں کے لیے انصاف کی راہ ہموار ہو۔
مہم کے تحت مواد کی تیاری، کمیونٹی سطح پر آگاہی پروگرام، قانونی رہنمائی اور پالیسی سازی سے متعلق سرگرمیوں کے ذریعے نہ صرف قانون پر عمل درآمد کو مضبوط بنایا جائے گا بلکہ ان سماجی، معاشی اور ماحولیاتی عوامل پر بھی توجہ دی جائے گی جو کم عمری کی شادی کو فروغ دیتے ہیں۔
آئندہ دو برسوں کے دوران اس مہم کے تحت مختلف ذرائع سے آگاہی مہم، کمیونٹی کی سطح پر رابطہ پروگرام اور وکالتی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ معاشرے میں اس مسئلے کے بارے میں شعور بیدار ہو اور کم عمری کی شادی کے سدباب کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔
یہ مہم اب باقاعدہ طور پر شروع ہو چکی ہے اور ابتدائی سرگرمیاں سندھ اور خیبر پختونخوا میں جاری ہیں، جبکہ مستقبل میں اس کے دائرہ کار کو نتائج اور شراکت داروں کی شمولیت کے مطابق مزید وسعت دی جائے گی۔
