لاہور میں پاکستان فلسفیانہ انجمن کی بارہویں نشست

newsdesk
2 Min Read
جم خانہ کلب لاہور میں پاکستان فلسفیانہ انجمن کی بارہویں نشست میں پروفیسر عتیہ سید نے تنقیدی تفکر اور اخلاقی غور کی اہمیت اجاگر کی

جم خانہ کلب لاہور کے بنکوئٹ ہال میں پاکستان کے مختلف تعلیمی اداروں کے علماء، اکیڈمیشن اور طلبہ نے شرکت کرتے ہوئے علمی گفت و شنید کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس نشست میں شریک افراد نے عصری چیلنجز اور فلسفہ کے عملی اطلاق پر گہرے تبادلے خیالات کیے۔ پاکستان فلسفیانہ انجمن کے اراکین نے علمی تعاون اور تحقیق کے فروغ کے عزم کو دوہرایا۔پروفیسر عتیہ سید بطور مہمانِ خصوصی حاضر تھیں اور اپنے مرکزی خطاب میں فلسفیانہ سوچ کی جدید معاشرے میں اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تنقیدی تفکر اور اخلاقی غور و خوض نہ صرف نصابی بحث کا حصہ ہیں بلکہ معاشرتی مسائل کے حل میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے خیالات نے نوجوان محققین اور طلبہ میں خصوصی دلچسپی پیدا کی۔خطاب کے بعد حاضرین نے متنوع نقطہ ہائے نظر پیش کیے اور موضوعات پر جاندار مباحثے ہوئے۔ سوال و جواب کے سیشن میں شرکا نے براہِ راست مہمانِ خصوصی سے سوالات کیے اور عملی پہلوؤں پر رہنمائی حاصل کی۔ اس تبادلۂ خیالات نے نشست کو فعال اور نتیجہ خیز بنایا۔اجلاس نے پاکستان فلسفیانہ انجمن کی تحقیق، علمی تعاون اور معنوی مکالمہ کے فروغ کی وابستگی کو مضبوطی سے یقینی بنایا۔ شرکاء نے آئندہ علمی تقریبات اور مشترکہ تحقیقی منصوبوں کے ذریعے فلسفہ کے فروغ اور نوجوانوں کی رہنمائی کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ پاکستان فلسفیانہ انجمن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ فلسفیانہ تحقیق کو تقریباً ہر سطح پر پھیلانے میں فعال کردار ادا کرے گی۔اس نشست سے واضح ہوا کہ فلسفہ نہ صرف نظریاتی مضمون ہے بلکہ عصری مسائل کے تجزیے اور اخلاقی فیصلوں میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ مرکزی گفتگو اور شرکاء کی شرکت نے پاکستان فلسفیانہ انجمن کی مقامی سطح پر اہمیت کو نمایاں کیا اور آئندہ مباحث کے لیے مثبت ماحول قائم کیا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے