سینیٹ قائمہ کمیٹی صحت کا ایف ایم جیز اور نوجوان ڈاکٹروں کو درپیش مسائل پر نوٹس، فوری حل کی ہدایت
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت میں غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس (ایف ایم جیز) اور نوجوان ڈاکٹروں کو درپیش مسائل پر سنجیدہ غور کیا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر ندیم احمد بھٹو نے ملک بھر میں نوجوان ڈاکٹروں اور ایف ایم جیز کو پیش آنے والی مشکلات کا سخت نوٹس لیا۔
کمیٹی کے حالیہ اجلاس کے دوران سینیٹر ندیم احمد بھٹو نے تقریباً 700 سے 800 غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کا معاملہ اٹھایا جنہوں نے سرکاری طریقہ کار کے تحت 10 ہزار روپے فیس جمع کرائی تھی اور انہیں رقم کی واپسی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، تاہم تاحال ادائیگیاں نہیں کی گئیں۔ سینیٹر نے تاخیر پر سوال اٹھاتے ہوئے فوری وضاحت اور مسئلے کے حل کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے ان ایف ایم جیز کے ہاؤس جاب کے مسائل بھی اجاگر کیے جنہوں نے نیشنل رجسٹریشن امتحان (این آر ای) پارٹ ون اور ٹو کامیابی سے پاس کیا ہے، مگر اس کے باوجود انہیں ہاؤس جاب میں شمولیت کے لیے شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ اجلاس میں ہاؤس جاب کے لیے اضافی امتحان کی شرط پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا، جو پہلے نافذ کی گئی تھی لیکن تاحال واپس نہیں لی گئی۔ ایف ایم جیز کو درپیش لائسنسنگ کے وسیع تر مسائل بھی زیر بحث آئے۔
کمیٹی کے چیئرمین نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ غیر ملکی جامعات سے فارغ التحصیل ایسے گریجویٹس جنہوں نے تمام مقررہ تقاضے پورے کر لیے ہیں اور این آر ای امتحانات پاس کر چکے ہیں، انہیں سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے شفاف اور منصفانہ طریقہ کار یقینی بنانے پر زور دیا تاکہ اہل اور قابل طبی ماہرین کو بلا تاخیر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
ایف ایم جی کمیونٹی اور نوجوان ڈاکٹروں نے سینیٹر ندیم احمد بھٹو کی جانب سے معاملہ اٹھانے کے اقدام کو سراہتے ہوئے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری اور مؤثر اقدامات کے ذریعے مسائل حل کیے جائیں تاکہ مستحق گریجویٹس کو قواعد و ضوابط کے مطابق سہولت فراہم کی جا سکے۔
