شرمین عبیدچنوی کے زیرِ اہتمام پٹاخہ پکچرز نے ۲۰۲۶ کی ایڈیشن کے لیے کلیم دی فریم پروگرام کی درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ یہ پروگرام نوجوان اور ابھرتی ہوئی خواتین فلم سازوں کو موقع فراہم کرنے کے لیے عرصہ دراز سے کام کر رہا ہے اور اس کا مقصد پاکستان میں دستاویزی فلم سازی میں خواتین کی آواز کو مضبوط بنانا ہے۔پٹاخہ پکچرز کی شروعات ۲۰۲۲ میں ہوئی اور اب تک اس نے مجموعی طور پر ۶۹ فلم سازوں کی مدد کی ہے۔ ان کی تیار کردہ فلموں نے مجموعی طور پر تقریباً ۲۵ ایوارڈز حاصل کیے اور وہ ۷۰ سے زائد بین الاقوامی میلوں میں نمائش کر چکی ہیں۔ اسی عزم کے تحت ادارہ نے ۲۰۲۴ میں خاص طور پر خیبر پختونخوا اور نئے ضم شدہ اضلاع کے مرد و خواتین کو شامل کر کے رسائی میں توسیع کی تھی۔اس مرتبہ پٹاخہ پکچرز نے ایس او سی فلمز کے ساتھ مل کر اسکاٹش ڈاکیومنٹری انسٹی ٹیوٹ اور برٹش کونسل کی شراکت سے کلیم دی فریم کو دوبارہ خواتین فلم سازوں تک پہنچایا ہے۔ پروگرام پاکستان بھر کی خواتین کو ہدف بناتا ہے جو حقیقی کہانیاں سنانے اور سماجی اثر پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔کلیم دی فریم کے آٹھویں ایڈیشن میں چار جوڑوں کو منتخب کیا جائے گا۔ امیدوار جوڑوں کی صورت میں درخواست جمع کرائیں گے اور ہر جوڑا کم از کم ۱۸ سال کی عمر کا ہونا ضروری ہے۔ پروگرام ایسے فلم سازوں کی تلاش میں ہے جو جرات مند، ثابت قدم اور معاشرتی موضوعات پر اثر انداز دستاویزی کہانیاں بنانا چاہتے ہوں۔منتخب فیلوز کو فنڈنگ کے ساتھ پانچ ماہ پر محیط منظم رہنمائی فراہم کی جائے گی، جس میں بین الاقوامی مینٹورز اور ایس او سی فلمز کی ٹیم کے ساتھ قریبی کام شامل ہے۔ رہنمائی کے دورانیے میں ہفتہ وار آن لائن نشستیں اور کراچی میں ایک عملی ایڈیٹ ہفتہ شامل ہوگا، اور سلسلہ ایک اختتامی تقریب پر ختم ہوگا جہاں شرکاء اپنی فلم ٹریلرز پیش کریں گی اور دستاویزی فلم سازی کے پیشہ ور افراد سے رابطے کریں گی۔پروگرام کی مدت جولائی تا نومبر ۲۰۲۶ رکھی گئی ہے اور حتمی انتخاب جون ۲۰۲۶ میں کیا جائے گا؛ منتخب شرکاء کو پورے دورانیے کے لیے مکمل طور پر دستیاب رہنا ہوگا۔ درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ ۲۰ مارچ ۲۰۲۶ ہے۔ درخواست فارم اور مزید تفصیلات پٹاخہ پکچرز کے سرکاری ابلاغی ذرائع پر دستیاب ہیں، نیز درخواستیں ای میل کے ذریعے بھیجی جا سکتی ہیں۔پٹاخہ پکچرز اور کلیم دی فریم کا مقصد پاکستانی دستاویزی منظرنامے میں خواتین کی کہانیوں کو بہتر سہارا دینا اور نئے بیانیوں کو فروغ دینا ہے تاکہ ملک کے مختلف ثقافتی، سماجی اور فنّی موضوعات عالمی سطح پر پہنچ سکیں۔ جو امیدوار اس سفر کا حصہ بننا چاہتے ہیں وہ اپنے پروجیکٹس میں خواتین کی بااختیاری، فن، شناخت، ثقافت اور موسیقی جیسے موضوعات کی دریافت کر سکتے ہیں۔
