وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے اسلام آباد کے حج کمپلیکس میں حج ٢٠٢٦ کے لیے منتخب ہونے والے خدام الحجاج کی دس روزہ تربیت مکمل ہونے پر سرٹیفیکیٹس تقسیم کئے اور تربیت کے اعلیٰ معیار کو سراہا۔ وزیر نے کہا کہ حکومت اس سال عازمینِ حج کو خوراک، رہائش اور نقل و حمل کی یکساں اور معیاری سہولیات فراہم کرے گی۔خدام الحجاج کی تربیت میں نظم و ضبط اور سعودی ضوابط کے مطابق خدمات انجام دینے کی خاطر عملی ماڈیولز شامل کئے گئے ہیں تاکہ ممکنہ چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ہر فرد تیار ہو۔ سرٹیفیکیٹ تقسیم کے موقع پر وزارت کے سینئر افسر ذوالفقار خان، ڈائریکٹر حج کمپلیکس قاضی سمیع الرحمان اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔وزیر نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک عظیم ذمہ داری کے لیے منتخب کیا ہے۔ اس سال تقریباً ٣٨٬٠٠٠ امیدواروں میں سے ٨٠٠ خوش نصیب افراد کو خدام الحجاج کے طور پر چنا گیا۔ سردار محمد یوسف نے خدام کی خدمت کو ایک اعزاز قرار دیا اور واضح کیا کہ حاجیوں کی خدمت نہ صرف فریضہ بلکہ دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔ ان کے الفاظ میں "عبادت سے جنت ملتی ہے لیکن خدمت سے خدا ملتا ہے”۔وزیر نے کہا کہ وزارتِ مذہبی امور کا ریکارڈ ہمیشہ شاندار رہا ہے؛ ۲۰۱۳ سے ۲۰۱۸ کے دوران پانچ معیاری حج آپریشنز کامیاب رہے اور گزشتہ سال سعودی وزارتِ حج نے ہماری کارکردگی کو اعزاز سے نوازا جبکہ وزیراعظم نے وزارت کو تعریفی شیلڈ دی۔ اس بار خواتین حاجیوں کی بہتر معاونت کے لیے خواتین عملے کی تعداد ٤٥ سے بڑھا کر ٨٥ کر دی گئی ہے۔وزارت کے خدام الحجاج کوآرڈینیٹر ذوالفقار خان نے کہا کہ سردار یوسف کی قیادت میں گزشتہ تجربات سے سیکھ کر حج ٢٠٢٦ کے لیے مزید بہتر تیاری کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ این ٹی ایس ٹیسٹ کے ذریعے کامیاب ہونے والے خدام الحجاج کو جدید ماڈیولز کے تحت تربیت دی گئی اور آئندہ مرحلے میں انہیں مخصوص تخصصی تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ سعودی عرب پہنچنے سے قبل ہر کسی کی ذمہ داری واضح ہو۔ذوالفقار خان نے مزید کہا کہ اس بار ناظمین کو پاکستان سے ہی عازمین کے ساتھ بھیجا جائے گا جو حج کے تمام مراحل میں ان کے ہمراہ رہیں گے اور واپس بھی اسی دستے کے ساتھ وطن واپس آئیں گے تاکہ خدمات میں تسلسل اور سہولت یقینی بنائی جا سکے۔
