راول روڈ کی ناقص تعمیر اور سیوریج
نظام کی خرابی سےتعمیرکے تھوڑے عرصے بعد پانی سڑکوں پر کھڑا رہنے سے دوبارہ خراب ہوجاتی ہے۔آر ڈی افسران کی غفلت سے قومی خزانے کا ضائع ہورہا ہےتحقیقات کا مطالبہ شہری ظہیراحمداعوان نے وزیراعظم پورٹل اور وزیراعلی شکایات سیل میں درخواستیں جمع کروا دی۔ شہر کی اہم شاہراہ راول روڈ کی مبینہ ناقص اور غیر معیاری تعمیر، سیوریج نالوں کی بندش اور پانی کی نکاسی کے ناقص نظام کے باعث شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ شہری حلقوں نے متعلقہ اداروں کی غفلت پر فوری تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ظہیر احمد اعوان چئیرمین سٹیزن ایکشن کیمٹی نے درخواست میں موقف اپنایا کہ راول روڈ کی تعمیر و مرمت کا کام ایک مرتبہ پھر سیوریج نالوں کی درست تعمیر اور پانی کی نکاسی کے مؤثر نظام کے بغیر جاری ہے جس سے قومی خزانے کاضیائع ہےانہوں نے کہ راول روڈ کو سن2001 میں راولپنڈی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) کی جانب سے قومی خزانے سے خطیر رقم خرچ کر کے تعمیر کیا گیا تھا، تاہم یہ سڑک انتہائی ناقص اور غیر معیاری طریقے سے بغیر سیوریج نالوں اور پانی کی نکاسی کے مناسب انتظام کے بنائی گئی تھی۔ اس کے بعد 2016 میں دوبارہ تعمیرکیا گیا پھر ناقص تعمیر کے خلاف شہریوں نے احتجاجی مہم بھی چلائی تھی جسے قومی اخبارات میں نمایاں کوریج ملی جبکہ اس حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، وزیراعلیٰ شکایات سیل اور قومی احتساب بیورو کو بھی درخواستیں جمع کروائی گئی تھیں۔
ظہیر احمد اعوان کے مطابق گزشتہ تقریباً نو سال سے راول روڈ پر سیوریج کے نالے ابلتے رہتے ہیں اور سڑک پر پانی کھڑا رہتا ہے۔ خصوصاً بارشوں کے دوران راول روڈ دریا کا منظر پیش کرنے لگتی ہے جس کے باعث ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہوتا ہے اور حادثات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پانی جمع ہونے کے باعث گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں خراب ہو جاتی ہیں جبکہ ایمبولینس اور دیگر ایمرجنسی گاڑیوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوتی ہے جس سے انسانی جانوں کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔انہوں نے کہ موجودہ تعمیر و مرمت کا کام بھی مناسب سلوپ، لیول اور انجینئرنگ نگرانی کے بغیر شروع کر دیا گیا ہے جو متعلقہ اداروں کی مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی کو ظاہر کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر سیوریج نالوں کی درست تعمیر اور پانی کی نکاسی کا مستقل نظام قائم کیے بغیر سڑک تعمیر کی گئی تو یہ منصوبہ دوبارہ ناکام ہو سکتا ہے اور قومی خزانے کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔انہوں نے حکومت پنجاب، وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، کمشنر راولپنڈی اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ راول روڈ کی سابقہ اور موجودہ تعمیر کا فوری اور شفاف آڈٹ اور تحقیقات کروائی جائیں۔ ساتھ ہی سڑک کے دونوں اطراف سیوریج نالوں کی مکمل اور معیاری تعمیر کو یقینی بنایا جائے اور پانی کی نکاسی کا مستقل حل نکالا جائے۔راول روڈ نہ صرف اہم شاہراہ ہے بلکہ روزانہ ہزاروں شہری اس سڑک کو استعمال کرتے ہیں، اس لیے اس مسئلے کا فوری حل نہ نکالا گیا تو عوامی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تعمیراتی کام کو انجینئرنگ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو محفوظ اور معیاری سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں اور قومی خزانے کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
راول روڈ کی تعمیر نو پر دوبارہ غفلت کی شکایت
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
