ہنگری کے سفیر کا ایف پی سی سی آئی کا بامقصد دورہ

newsdesk
3 Min Read
ہنگری کے سفیر ذولتان وارگہ نے ایف پی سی سی آئی کے صدر سے ملاقات کی، دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال ہوا۔

اسلام آباد میں ہنگری کے سفیر ذولتان وارگہ نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ادارہ کا باضابطہ دورہ کیا اور ادارے کے صدر عاطف اکرام شیخ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں صدر کے علاوہ نائب صدر طارق جدون اور چیئرمین کیپٹل آفس کریم عزیز بھی شریک رہے جہاں دونوں فریقین نے دوطرفہ تجارتی و صنعتی تعاون، سرمایہ کاری کے فروغ اور مشترکہ پروجیکٹس کے امکانات پر مفصل گفتگو کی۔میزبان کی حیثیت سے عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول اور ون ونڈو سہولتیں فراہم کر رہا ہے اور ہنگری کی کمپنیاں خصوصاً توانائی، انفراسٹرکچر اور آٹو پارٹس کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ انہوں نے زرعی ٹیکنالوجی، فوڈ پروسیسنگ، فارماسیوٹیکل اور آئی ٹی شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نجی شعبے کے بی ٹو بی رابطوں اور مشترکہ بزنس فورمز سے باہمی تجارت میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔ملاقات میں تجارتی حجم بڑھانے، کاروباری وفود کے تبادلے اور باہمی مفاد کے منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے عملی اقدامات کی اہمیت پر اتفاق کیا گیا۔ عاطف اکرام شیخ نے زور دیا کہ ہنگری کی کمپنیوں کو پاکستان کے صنعتی مراکز میں سرمایہ کاری کے واضح اور وسیع مواقع پیش کیے جائیں گے تاکہ مقامی صنعتی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ہو۔ہنگری سفیر ذولتان وارگہ نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان قدیم دوستانہ تعلقات موجود ہیں اور ہنگری پاکستان کے ساتھ اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہنگری کی کمپنیاں جدید زرعی مشینری، پانی کے انتظام اور صحت کے شعبے کی ٹیکنالوجی میں مہارت رکھتی ہیں اور وہ دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے مکمل تعاون فراہم کریں گے۔ملاقات میں یہ بھی طے پایا کہ مستقبل میں کاروباری وفود کے تبادلے، مشترکہ صنعتی ورکشاپس اور بی ٹو بی اجلاس منعقد کیے جائیں گے تاکہ تجارتی رکاوٹوں کا ازالہ ہو اور دونوں کناروں کے کاروباری حلقوں کو بہتر روابط کا موقع ملے۔ ہنگری کے سفیر کے اس دورے کو باہمی اقتصادی شراکت داری کو نئی سمت دینے والا قدم قرار دیا گیا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے