گزشتہ شب بنو میں نامعلوم افراد نے سینئر صحافی اور سابق بنو پریس کلب صدور احسان خٹک کے رہائشی مکان کے مرکزی دروازے پر فائرنگ کی۔ احسان خٹک جو ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں نے بتایا کہ واقعہ دیر رات پیش آیا اور خوش قسمتی سے اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔متاثرہ صحافی نے بتایا کہ چند ہفتوں سے مشتبہ موٹرسائیکل سوار انہیں پریس کلب آنے جانے اور رپورٹنگ کے دوران پیچھا کر رہے تھے جس کے پیش نظر انہوں نے متعلقہ تھانے میں درخواست جمع کروا رکھی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا کسی سے ذاتی دشمنی یا رنجش نہیں ہے۔واقعے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ اسٹیشن ہاؤس آفیسر اللہ نواز خان نے کہا کہ صحافی عوامی آواز اٹھاتے ہیں اور پولیس ان کے تحفظ کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے تصدیق کی کہ احسان خٹک کے گھر پر فائرنگ کے معاملے میں قانونی کارروائی جاری ہے اور ملوث افراد کی شناخت کے لیے تفتیش کی جا رہی ہے۔بنو پریس کلب نے واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور ذمہ داران کے خلاف فوری اور شفاف تفتیش اور صحافیوں کے تحفظ کے موثر انتظامات کا مطالبہ کیا۔ صدر پیر نیاز علی شاہ کی صدارت میں ہنگامی اجلاس میں احسان خٹک نے واقعے کی تفصیلات شرکاء کو بتائیں، جس میں صحافی برادری نے ان کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا اور صحافتی ذمہ داریوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کی مذمت کی گئی۔صحافتی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے اراکین نے حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ صحافیوں کی حفاظت یقینی بنائیں تاکہ وہ خوف کے بغیر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔ احسان خٹک کے کیس میں جاری تفتیش سے متعلق مزید پیش رفت سے متعلق باقاعدہ اطلاعات جاری کی جائیں گی۔
