FAO خیبرپختونخوا کسان مارکیٹ کا انعقاد، عالمی یومِ دالاں منایا گیا

newsdesk
4 Min Read

پشاور: FAO خیبرپختونخوا کسان مارکیٹ کا انعقاد، عالمی یومِ دالاں منایا گیا

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) خیبرپختونخوا نے عالمی یومِ دالاں کے موقع پر پشاور میں FAO خیبرپختونخوا کسان مارکیٹ کا انعقاد کیا، جس میں کسانوں، سرکاری اداروں، نجی شعبے اور ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔ تقریب کا مقصد دالوں کی اہمیت اجاگر کرنے کے ساتھ کسانوں کو منڈیوں سے جوڑنا اور ماحولیاتی لحاظ سے موزوں زرعی طریقوں کو فروغ دینا تھا۔

تقریب میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دالیں پائیدار زرعی خوراکی نظام کے لیے اسٹریٹجک فصلوں کی حیثیت رکھتی ہیں، کیونکہ یہ زمین کی زرخیزی بہتر بنانے، موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت اور خوراک و غذائیت کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ دالیں قدرتی طور پر نائٹروجن فکسیشن کے ذریعے مٹی کی زرخیزی میں اضافہ کرتی ہیں، کیمیائی کھادوں پر انحصار کم کرتی ہیں اور متنوع و مضبوط کاشتکاری نظام کو فروغ دیتی ہیں۔

ایف اے او حکام کے مطابق پاکستان میں دالیں تقریباً 13 لاکھ ہیکٹر رقبے پر کاشت کی جاتی ہیں، تاہم ملکی پیداوار بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں ناکام ہے، جس کے باعث پاکستان دالوں کی درآمد پر انحصار کرتا ہے۔ چونکہ دالیں بارانی اور کم وسائل والے علاقوں کے لیے موزوں ہیں، اس لیے یہ خصوصاً خیبرپختونخوا جیسے صوبوں میں موسمیاتی لحاظ سے مضبوط روزگار، مٹی کی بحالی اور غذائی تنوع کے فروغ کے لیے نمایاں صلاحیت رکھتی ہیں۔

کسان مارکیٹ میں ایف اے او کے تعاون سے تیار کی گئی مختلف زرعی مصنوعات کی نمائش کی گئی، جن میں دالیں، سبزیاں، خوردنی تیل، ڈیری مصنوعات اور دیگر پروسیس شدہ اجناس شامل تھیں۔ یہ مصنوعات ان کسانوں نے تیار کیں جو ایف اے او کے تربیتی پروگراموں سے مستفید ہوئے۔ اس اقدام کا مقصد عوام میں پائیدار زرعی پیداوار سے متعلق آگاہی بڑھانے کے ساتھ کسانوں اور خریداروں کے درمیان براہِ راست تجارتی روابط کو مضبوط بنانا تھا۔

تقریب میں تقریباً 100 شرکاء نے شرکت کی، جن میں مختلف سرکاری محکموں، ریسٹورنٹس، چیمبرز آف کامرس، برآمد کنندگان، ریٹیلرز اور اعلیٰ معیار کی منڈیوں سے وابستہ افراد شامل تھے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے منڈی کی ضروریات، معیار کے تقاضوں اور کسانوں سے براہِ راست خریداری کے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایف اے او کی ہیڈ آف آفس کیال اکمت بیک نے کہا کہ مٹر، لال لوبیا، مونگ اور سویابین جیسی دالیں مٹی کی زرخیزی بہتر بنانے، پیداواری لاگت کم کرنے اور خوراک و غذائیت کے تحفظ کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف اے او کسان فیلڈ اسکولز، جدید زرعی طریقوں اور ماحولیاتی لحاظ سے موزوں فصلوں کے نظام کے ذریعے کسانوں کی مسلسل معاونت جاری رکھے ہوئے ہے۔

کسان مارکیٹ میں مختلف ویلیو چینز سے متعلق معلوماتی اسٹینڈیز بھی لگائی گئیں، جن میں ایف اے او کے تعاون سے اپنائے گئے بہترین طریقوں کو اجاگر کیا گیا۔ ان نمائشوں میں بتایا گیا کہ بہتر پیداوار، کٹائی کے بعد مناسب دیکھ بھال اور ویلیو ایڈیشن کس طرح کسانوں، صارفین اور ماحول کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

عالمی یومِ دالاں کے موقع پر منعقد ہونے والی اس سرگرمی کے ذریعے ایف اے او نے صوبائی حکام، کسانوں اور نجی شعبے کے ساتھ مل کر پاکستان میں مضبوط، پائیدار اور جامع زرعی خوراکی نظام کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے