مرکزِ السنہ و علومِ ترجمہ کے زیرِ اہتمام علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے مرکزی آڈیٹوریم میں جدید مصنوعی ذہانت پر مبنی اردو لسانی سافٹ ویئر گرامورا کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔ اس موقع پر مقررین نے اس اقدام کو اردو کی ڈیجیٹل موجودگی کو مضبوط بنانے کی سمت میں اہم قدم قرار دیا۔سینٹر کے مہمانِ خصوصی معزز سینیٹر پرویز رشید تھے جبکہ محترمہ وجیہہ قمر بطور وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، گلگت بلتستان کے سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن، ڈاکٹر کامران جہانگیر، ڈاکٹر عالیہ سہیل نمائندہ امریکی ادارہ برائے پاکستان مطالعات اور ڈاکٹر اسلم بیگ سیکرٹری جنرل پاکستان اکیڈمی آف سائنس مہمانِ اعزاز کے طور پر موجود تھے۔ شرکاء نے مختلف تقاریر میں اس منصوبے کی افادیت پر روشنی ڈالی اور اس کے فقدانِ دور کرنے کی ضرورت تسلیم کی۔مقررین نے اس پروگرام کو اردو زبان کے فروغ کے لیے ایک سنگِ میل بتایا اور مرکز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی کی قائدانہ خدمات کی بارہا تعریف کی گئی۔ شرکاء نے کہا کہ یہ منصوبہ ڈاکٹر غلام علی کا فکریا تخلیقی منصوبہ ہے جس کے لیے انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر مستقل محنت کی اور رہنمائی فراہم کی۔ اس جذبے اور علمی رہنمائی نے اردو کو تکنیکی بنیادوں پر فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔یہ اردو لسانی سافٹ ویئر اپنی نوعیت کا پہلا نظام قرار دیا گیا جس میں اردو قواعد کی درستی، املا کی جانچ، تحریر کی تجدید، خلاصہ نویسی، مترادف و متضاد الفاظ کی تخلیق اور اردو فرہنگ جیسی سہولیات شامل ہیں۔ تعلیمی اور پیشہ ورانہ ابلاغ میں بہتری کے لیے تیار کردہ یہ نظام اردو لسانی سافٹ ویئر کی مقامی تقاضوں سے ہم آہنگ ترقی کی مثال پیش کرتا ہے۔ڈاکٹر غلام علی نے شرکاء کو بتایا کہ یہ منصوبہ مقامی لسانی ٹیکنالوجی کی فوری قومی ضرورت کے تناظر میں تیار کیا گیا ہے اور اس سے زبان اور تعلیمی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مزید اختراعات کی راہیں کھلیں گی۔ تقریب کے آخر میں معزز مہمانان نے سافٹ ویئر کے مختلف فیچرز کا از نزدیک معائنہ کیا اور ڈائریکٹر اور ان کی ٹیم کی کوششوں کو سراہا گیا۔
