ترلائی دھماکہ نے جمعہ کی نماز کے دوران امام بارگاہ میں پرامن عبادت گزاروں کو نشانہ بنایا۔ ابتدائی طور پر پمز اسپتال میں ۲۸ لاشیں منتقل کی گئیں جبکہ اسپیکر کے مطابق مجموعی طور پر اموات ۳۱ ہوگئیں اور ہسپتال لائے گئے زخمیوں کی تعداد ۱۶۹ تک پہنچ گئی۔ایڈی پمز عمران سکندر نے بتایا کہ پمز میں ۱۰۵ زخمی لائے گئے جن کا فوری طور پر طبی امداد جاری ہے اور متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ ہسپتال نے ہائی الرٹ نافذ کردیا اور جنرل سرجری، نیورو سرجری اور آرتھوپیڈک ڈیپارٹمنٹس کو ایمرجنسی ہدایات جاری کی گئیں۔ اضافی طبی عملہ طلب کیا گیا اور نوجوانوں کی بڑی تعداد خون کے عطیات کے لیے پمز پہنچ گئی۔ترلائی دھماکہ میں انسداد پولیو پروگرام کے نیشنل ٹیکنیکل ایڈوائزر ڈاکٹر الطاف بوسن کے بھائی فرمان علی بوسن بھی شہید ہوگئے۔ فرمان علی بوسن محکمہ تعلیم کے ریٹائرڈ افسر تھے اور نماز جمعہ کے لیے مسجد میں موجود تھے۔ ان کا بیٹا اور کئی قریبی رشتہ دار اس واقعے میں زخمی ہوئے۔ فرمان علی بوسن کی نماز جنازہ اور تدفین اسلام آباد میں ادا کی جائے گی۔ڈاکٹر الطاف بوسن کو بھائی کے انتقال کی اطلاع ملتے ہی کراچی سے پولیو مہم کی سرکاری سرگرمیاں ترک کرکے اسلام آباد پہنچنے کا بتایا گیا۔ حکام نے لواحقین کو شہداء کی میتیں حوالے کر دی ہیں اور متاثرہ خاندانوں سے رابطے کیے جا رہے ہیں۔اسلام آباد امن کمیٹی کے علماء نے پمز کے باہر پریس کانفرنس میں اس واقعے کی شدید مذمت کی اور تمام مکاتب فکر سے یکجہتی کا پیغام دیا۔ علماء نے کہا کہ دشمن کوشش کرتا ہے کہ معاشرے کو تقسیم کرے، مگر ایسے واقعات قوم کو کمزور نہیں کرسکتے اور ہمیں اتحاد برقرار رکھنا ہوگا۔وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال ہنگامی طور پر کراچی سے اسلام آباد پہنچ گئے اور پمز میں زخمیوں کے علاج معالجے کی سہولیات کا جائزہ لیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری نے بھی امام بارگاہ کا دورہ کیا، نماز مغرب و عشاء امام بارگاہ میں ادا کی اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعائیں کیں۔ وزیر داخلہ نے ہدایت دی کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ملوث عناصر کو جلد گرفتار کیا جائے۔ضلعی انتظامیہ اور پولیس فورسز نے موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر راولپنڈی اور اسلام آباد میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ سی پی او اور دیگر افسران میدان میں متحرک ہیں اور امام بارگاہوں، مساجد اور حساس مقامات پر سکیورٹی چیکنگ زوروں پر ہے۔اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے ایک روزہ سوگ اور ہڑتال کا اعلان کیا ہے اور واقعے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور سکیورٹی ادارے شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دے رہے ہیں اور فول پروف سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جارہے ہیں۔ایک افسوسناک واقعے میں اسلام آباد پولیس کے سب انسپکٹر سید اشتیاق حسین شاہ کے کزن حسن ولد محمود شاہ بھی شہید ہوئے، جن کی تدفین مانسہرہ میں کی جائے گی اور شهید کا جسد خاکی مستحقین کے حوالے کیا گیا ہے۔ترلائی دھماکہ کے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور مقامی انتظامیہ واقعے کے بعد متاثرین کی بحالی اور تاحال زیر علاج زخمیوں کے بہتر طبی انتظامات کو یقینی بنانے میں مصروف عمل ہے۔
