دوبئی میں متحدہ عرب امارات کی نائب وزیر برائے کابینہ امور محترمہ ہدی الہاشمی سے ہونے والی ملاقات میں دونوں جانب سے حکمرانی، طویل المدتی منصوبہ بندی اور عوامی شعبے میں جدت کے فروغ پر مفصل تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے ملاقات میں موجودہ حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے اور اس کے تحت اٹھائے گئے عملی اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے اڑان پاکستان کے ذریعے گورننس اصلاحات اور اقتصادی استحکام کے لیے جامع روڈ میپ متعارف کرایا ہے۔ محتاط معاشی نظم و نسق اور مشکل مگر ضروری اصلاحات کے نتیجے میں مہنگائی کی شرح تیزی سے کم ہوئی اور تینتالیس فیصد سے گھٹ کر پانچ فیصد تک آ گئی، جو ملک میں معاشی استحکام کی بحالی کا اشارہ ہے۔اڑان پاکستان کا مقصد دو ہزار پینتیس تک پاکستان کو ایک کھرب امریکی ڈالر کی معیشت بنانا اور دو ہزار سینتالیس تک تین کھرب تک پہنچانے کا طویل المدتی وژن رکھتا ہے۔ اس منصوبے میں روایتی بیوروکریٹک ماڈل سے ہٹ کر کارکردگی، میرٹ اور مراعات کی بنیاد پر سول سروس کی استعداد بڑھانے پر زور دیا گیا ہے تاکہ گورننس اصلاحات کو مستقل اور نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔وفاقی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان متعلقہ اماراتی حکومتی اداروں کے ساتھ تعاون میں گہری دلچسپی رکھتا ہے، خاص طور پر مصنوعی ذہانت پر مبنی گورننس، تعلیمی اصلاحات، بچوں میں قد کی کمی سے نمٹنے اور آبادی کے مؤثر انتظام کے شعبوں میں یو اے ای کے تجربات سے استفادہ کیا جائے گا۔ انہوں نے اڑان پاکستان کے اہداف اور اصلاحاتی اقدامات کی تفصیلات بھی شریک کیں۔محترمہ ہدی الہاشمی نے طویل المدتی منصوبہ بندی کی کامیابی کے لیے قابلِ عمل منصوبوں کی بنیاد رکھنے اور تمام وزارتوں کو ایک مشترکہ قومی وژن کے گرد ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کا صفر بیوروکریسی اقدام خدمات کی فراہمی کو آسان بنانے اور اداروں کے درمیان اعلیٰ کارکردگی فروغ دینے میں نمایاں نتائج کا سبب بنا ہے۔ انہوں نے حکومتی ایکسیلیریٹر ماڈل کی تفصیل بیان کی جس نے قومی ترجیحات کے مطابق ادارہ جاتی اہداف کو ہم آہنگ، نتائج کو قابلِ پیمائش اور شفافیت و صحت مند مسابقت کو فروغ دیا ہے۔ملاقات کے اختتام پر ہدی الہاشمی نے وفاقی وزیر کو یقین دہانی کروائی کہ متحدہ عرب امارات خصوصاً مصنوعی ذہانت، تعلیم اور کارکردگی پر مبنی حکمرانی کے ماڈل کے نفاذ میں پاکستان کو مکمل تعاون اور سہولت فراہم کرے گا، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان گورننس اصلاحات کے شعبے میں تعاون کے نئے راستے کھلنے کی توقع ہے۔
