سال یکم جنوری تا 31 دسمبر 2025 میں وزارتِ مذہبی امور نے متنوع اصلاحاتی اقدامات کے ذریعے سماجی رواداری، دینی تعلیمات کے فروغ اور نظمِ حکمرانی میں واضح پیش رفت دکھائی۔ وزارتِ مذہبی امور کی کوششوں سے قرآنی تعلیمات کی ترویج، حاجیوں کی سہولت اور بین المذاہب ہم آہنگی کو اولین ترجیح دی گئی جس کے مثبت نتائج ملک بھر میں سامنے آئے۔اسلام آباد میں جناح کنونشن سینٹر میں منعقد ہونے والا بین الاقوامی قرأت مقابلہ جو 24 سے 29 نومبر 2025 تک جاری رہا، ملک کے لیے نمایاں کامیابی ثابت ہوا۔ 37 ممالک کے قراء نے مقابلے میں شرکت کی اور ملائیشیا پہلی، ایران دوسری جبکہ پاکستان تیسری پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ بین الاقوامی مہمانوں نے اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے ضمنی پروگراموں کو یادگار قرار دیا جس سے نوجوانوں میں دینی سرگرمیوں میں دلچسپی اور پاکستان کا مثبت مذہبی تشخص اجاگر ہوا۔ وزارتِ مذہبی امور نے آئندہ مقابلوں میں مزید ممالک کی شمولیت کے اعادہ کا اعلان کیا۔قومی سطح پر تحفظِ قرآن، حسنِ قرأت اور محفلِ شبینہ کے مقابلے صوبائی مقابلوں کے بعد ستمبر 2025 میں منعقد ہوئے جن میں مرد، خواتین، حفاظ، قراء اور نوجوانوں کے لیے دس زمروں میں مقابلے شامل تھے۔ تین سو فیصد شفاف طریقہ کار کے تحت 30 فاتحین کو اسناد اور نقد انعامات دیے گئے جبکہ نمایاں شرکاء کو دبئی، روس، ترکی، سعودی عرب، کویت اور مراکش میں بین الاقوامی مقابلوں کے لیے نامزد کیا گیا۔ ماہِ رمضان کے آخری عشرے کے لیے خوش الحان قراء کے انتخاب کے قومی مقابلے بھی کامیابی سے منعقد کیے گئے۔سیرتِ رسولﷺ کے فروغ کے سلسلے میں پچاسویں سیرت کانفرنس بھی منعقد کی گئی جسے اسلامی تعاون تنظیم کے اعلان کردہ موضوع "نبی الرحمت” کے تحت منایا گیا۔ فلسطین، مصر، بنگلہ دیش اور بحرین سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی وفود اور ملک بھر کے مکاتبِ فکر کے علمائے کرام و مشائخ نے شرکت کی، جبکہ کانفرنس کے دوران قومی قرآن و سیرت نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی ہدایات کے مطابق عشرۂ رحمت للعالمین کے دوران ملک گیر سیرت و نعت محافل منعقد ہوئیں جن کے ذریعے امن، برداشت اور رواداری کے فروغ کے پیغام کو تقویت ملی۔تعلیمی و تحقیقی میدان میں عصری مسائل کے حل کے لیے سیرتِ رسولﷺ کی روشنی میں مقالہ جاتی مقابلے منعقد کیے گئے اور نمایاں اسکالرز کو ایوارڈز اور نقد انعامات سے نوازا گیا۔ قومی سیرت مقابلے کا پورا نظام ڈیجیٹل بنایا گیا اور پچھلے پچاس سال کے تحقیقی مقالہ جات کی ڈیجیٹلائزیشن کا عمل جاری ہے۔ شفافیت یقینی بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت اور سرقہ جانچ کے نظام متعارف کرائے گئے تاکہ تحقیقی معیار میں بہتری آئے اور شفاف نتائج ملیں۔بین المذاہب ہم آہنگی کو مضبوط کرنے کے لیے قومی علماء و مشائخ کونسل کو 2025 میں از سر نو تشکیل دیا گیا اور کونسل کے دو اجلاس منعقد ہوئے جن میں انتہا پسندی، دہشت گردی اور نفرت انگیز بیانیے کے خاتمے کے ساتھ ذمہ دار مذہبی مکالمے کی سفارشات پیش کی گئیں۔ ان اقدامات نے معاشرتی ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔قرآنِ کریم کی معیاری اور اغلاط سے پاک طباعت کے لیے قومی اتفاق رائے قائم کیا گیا اور مستند متن کی سافٹ کاپی وزارت کی ویب سائٹ پر دستیاب کرائی گئی۔ مستند ڈیجیٹل قرآن اور موبائل اپلیکیشن بھی متعارف کرائی گئی جبکہ اغلاط سے پاک طباعت کے لیے ترمیم شدہ قرآن ایکٹ نافذ کیا گیا اور قواعد کی تیاری جاری ہے تاکہ ہر شائع نسخہ مستند اور قابلِ اعتماد ہو۔مقدس شہید اوراق کے باوقار تلفی کے لیے ری سائیکلنگ پلانٹ کی تعمیر آخری مراحل میں ہے اور اس کا کامیاب آزمائشی تجربہ کیا جا چکا ہے۔ صوبوں کو گرین باکسز نصب کرنے اور مقدس اوراق کی باوقار تلفی کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ تقدس کا مکمل احترام ممکن ہو۔حج 2025 کے دوران پاکستان کے انتظامات کو سعودی وزارتِ حج و عمرہ کی جانب سے ایکسی لینس ایوارڈ کے ذریعے تسلیم کیا گیا۔ مکہ مکرمہ میں سعودی نائب وزیر نے پاکستان حج مشن کا دورہ کیا اور ٹیم کو مبارکباد دی۔ وزیرِ اعظم نے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کو شاندار انتظامات پر خصوصی شیلڈ سے نوازا جبکہ حج پالیسی 2026 کو سابقہ اصلاحات کی بنیاد پر ترتیب دیا گیا تاکہ لاگت میں کمی اور سہولت میں اضافہ ممکن ہو۔حج انتظامات کی ڈیجیٹائزیشن کے تحت ڈیجیٹل سہولیات اور شفاف نگرانی کے نظام متعارف کرائے گئے اور "پاک حج” موبائل ایپ کے ذریعے رہنمائی، تربیت، رہائش، پروازوں، خیموں اور مناسکِ حج سے متعلق مکمل معلومات فراہم کی گئیں۔ نجی حج اسکیم میں متعارف کرائی گئی اصلاحات کی بدولت شکایات میں واضح کمی دیکھی گئی اور 75 فیصد عازمین کو مجموعی طور پر 3.5 ارب روپے کی واپسی کی گئی، فی حاجی رقم 12 ہزار سے 1 لاکھ 10 ہزار روپے تک رہی۔ حج 2026 کے لیے مجوزہ رجسٹریشن سعودی ٹائم لائن کے مطابق مکمل کی گئی جس میں ایک لاکھ 19 ہزار سرکاری اور 60 ہزار نجی عازمین شامل ہیں اور پاکستان حج مشن نے خوراک، ٹرانسپورٹ اور دیگر انتظامات مسابقتی طریقہ کار کے تحت حتمی شکل دی۔عازمینِ حج کی جامع تربیت کے لیے ملک بھر میں 147 مراکز پر آڈیو ویژول سہولیات کے ساتھ تربیتی سیشن منعقد کیے گئے جن کے نتیجے میں تربیت یافتہ حجاج نے نظم و ضبط اور مثبت رویے سے پاکستان کا وقار بڑھایا۔ روٹ ٹو مکہ منصوبے میں اسلام آباد کے علاوہ کراچی ایئرپورٹ کو بھی شامل کیا گیا اور لاہور کی شمولیت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ عمرہ رولز 2025 کابینہ کمیٹی کو ارسال کیے گئے اور 245 عمرہ کمپنیوں کے تصدیق شدہ معاہدے وزارت کی ویب سائٹ پر شائع کیے گئے جبکہ قواعد کی منظوری تک عمرہ شکایات متعلقہ صوبائی محکمہ سیاحت کو بھیجی جا رہی ہیں۔زیارات کے شعبے میں اصلاحات کے تحت عراق اور ایران کے لیے سالار سسٹم ختم کیا جا رہا ہے اور زیارات گروپ آرگنائزرز کا ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اگلے مرحلے میں آن لائن پورٹل اور موبائل ایپ لانچ کی جائیں گی اور رجسٹریشن کے پہلے مرحلے میں ایک ہزار 413 درخواستوں میں سے 221 کمپنیاں رجسٹر ہو چکی ہیں جن کی تعداد جلد تین سو سے تجاوز کرے گی۔نظامِ صلوٰۃ کمیٹی کی بحالی کے بعد یکساں اوقاتِ نماز اور اذان کا آغاز کوہسار بلاک پاک سیکرٹریٹ سے کیا گیا جبکہ مذہبی قیادت نے ایچ آئی وی ایڈز، ماں و بچے کی صحت، غذائیت اور بچوں کے حقوق بارے آگاہی مہمات میں حصہ لے کر سماجی مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ مہمات اقوامِ متحدہ اور دیگر اداروں کے تعاون سے مختلف شہروں میں منعقد ہوئیں۔بین المذاہب ہم آہنگی پالیسی اور مذہبی رواداری حکمتِ عملی 12 فروری 2025 کو وفاقی کابینہ سے منظور ہوئیں جبکہ قومی کمیشن برائے اقلیت کے قانونی، مالی اور انتظامی امور پر مشتمل ایکٹ یکم دسمبر 2025 کو پارلیمنٹ سے پاس ہوا۔ مالی سال 2024-25 میں اقلیتوں کے فلاحی فنڈز اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک سو ملین روپے جبکہ 2025-26 کے لیے اسی نوعیت کے 85 ملین روپے مختص کیے گئے۔ 32 چھوٹے ترقیاتی منصوبے منظور ہوئے اور 7 ہزار 965 درخواستوں میں سے 2 ہزار 236 طلبہ کو اسکالرشپس دی گئیں۔ گزشتہ مالی سال میں 1,528 مستحق غیر مسلم افراد کو 12 ملین روپے مالی امداد دی گئی جبکہ رواں مالی سال میں اب تک 440 مستحق افراد کو چار ملین روپے سے زائد امداد فراہم کی جا چکی ہے۔غیر مسلم کمیونٹی کے مذہبی تہوار حکومتِ پاکستان کی سطح پر منائے گئے اور پشاور، لاہور، کراچی و کوئٹہ میں بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ 11 اگست کا منارٹی ڈے ایوانِ صدر میں جبکہ دیوالی و کرسمس وزیرِ اعظم ہاؤس میں منائے گئے جس سے معاشرتی ہم آہنگی کو تقویت ملی۔متروکہ وقف املاک بورڈ میں اصلاحاتی کمیٹی وزیرِ قانون کی سربراہی میں کام کر رہی ہے اور سکھ یاتریوں کی بہتر میزبانی کے لیے وزیرِ مملکت برائے خزانہ کی قیادت میں علیحدہ کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کے ذریعے رمضان اور عیدین پر اتفاقِ رائے یقینی بنایا گیا اور صوبائی و ضلعی کمیٹیوں کے درمیان رابطے مؤثر رکھے گئے۔محفوظ ڈیجیٹل ماحول کے قیام کے سلسلے میں ویب ایویلیوایشن سیل نے آن لائن قابلِ اعتراض مواد کی نگرانی کی اور 74,700 آن لائن لنکس کا جائزہ لے کر متعلقہ اداروں کو بلاکنگ کے لیے بھیجا گیا جبکہ سوشل میڈیا کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کے لئے آگاہی مہم کا آغاز بھی کیا گیا۔ کرتارپور راہداری کو بھارتی آبی جارحیت کے باعث آنے والے سیلاب کے بعد چوبیس گھنٹوں میں بحال کیا گیا اور وزیرِ اعظم و فیلڈ مارشل نے یاتریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔حکومتی اخراجات میں کمی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے تحت 60 فیصد خالی آسامیوں کا خاتمہ کیا گیا، بھرتیوں اور خریداری کے عمل کو شفاف اور میرٹ پر مبنی بنایا گیا اور حج سے متعلق امور کے لیے قواعد و ضوابط نافذ کر کے قانونی فریم ورک کو مضبوط کیا گیا۔ سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے عوام کو معلومات فراہم کی گئیں اور بیرونِ ملک عازمینِ حج کو سرکاری مواصلاتی چینلز کے ذریعے رہنمائی دی گئی جبکہ توہین آمیز اور نفرت انگیز مواد کے خلاف بروقت کارروائی جاری رکھی گئی۔وزارتِ مذہبی امور کی یہ تمام کوششیں شفافیت، سہولت اور بین المذاہب ہم آہنگی کے عزم کی عکاس ہیں اور ان کے اثرات معاشرتی امن، استحکام اور رواداری کے فروغ میں واضح طور پر نظر آتے ہیں۔
