اس سال جائزہ کاروں نے ملک بھر سے موصولہ ریکارڈ تعداد کی تحقیقی تجاویز کے پہلے مرحلے کا اندھا جائزہ کامیابی سے ختم کیا ہے۔ اس عمل میں سخت معیار اور شفاف طریقہ کار کو یقینی بنایا گیا تاکہ صرف میرٹ کی بنیاد پر تجاویز کا انتخاب ہو سکے۔اس مہم میں مجموعی طور پر قومی تحقیقی پروگرام کو گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ کر مجموعی طور پر ۶۹۲۶ تحقیقی تجاویز موصول ہوئیں، جو اب تک کی سب سے زیادہ تعداد قرار پائی ہے۔ ان درخواستوں نے ملک بھر کی جامعات اور تحقیقی اداروں میں بڑھتی ہوئی تحقیقی دلچسپی اور شمولیت کی عکاسی کی ہے۔جائزہ کے اس مرحلے میں ملک کی نمایاں جامعات کے ماہرینِ تعلیم اور موضوعاتی ماہرین کو اسلام آباد اور تمام علاقائی مراکز بشمول پشاور، لاہور، کراچی اور کوئٹہ میں اور برقی رابطے کے ذریعے مدعو کیا گیا۔ ہزاروں تشخیصات کو منظم انداز میں مکمل کرنا ایک بڑا چیلنج تھا، جسے مربوط ٹیم ورک، ضابطہ کار کی پاسداری اور اعلیٰ انتظامیہ کی بھرپور معاونت کے ذریعے بروئے کار لایا گیا اور مقررہ شیڈول کے مطابق جائزے کا عمل پایہ تکمیل پہنچا۔جائزہ کاروں کی وابستگی اور پیشہ ورانہ خدمات کو سراہا گیا ہے اور پروگرام کی ٹیم نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا ہے۔ جن درخواست دہندگان کی تجاویز دوسرے مرحلے کے لیے منتخب ہوئی ہیں انہیں مبارکباد دی جاتی ہے اور کہا گیا ہے کہ تفصیلی پروپوزل کی فراہمی کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔اہم نوٹ کے طور پر کہا گیا ہے کہ تفصیلی پروپوزل جمع کروانے کی آخری تاریخ ۶ فروری ۲۰۲۶ ہے، لہٰذا متعلقہ محققین بروقت دستاویزات تیار کریں اور مقررہ تاریخ تک جمع کرائیں تاکہ انتخابی عمل میں شامل رہیں۔
