سید مصطفیٰ کمال نے جکارتہ میں واقع بایوفارما کے کارخانے کا دورہ کیا اور وہاں کے مختلف شعبوں کا بغور معائنہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے پیداواری لائنوں، لیبارٹری عمل اور کوالٹی کنٹرول یونٹس کا جائزہ لیا تاکہ ویکسین سازی کے عملی مراحل کی بہتر سمجھ حاصل کی جا سکے۔دورے کے موقع پر وزیرِ صحت کو ویکسین کی تیاری، معیار اور عالمی حفاظتی پروٹوکول کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں مصنوعات کے معیار کے معیارات، صفائی کے اصول، اور ٹیسٹنگ کے عمل پر زور دیا گیا تاکہ عوامی صحت کے لیے محفوظ ویکسین کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے بایوفارما کے عملی تجربات اور انتظامی طریقوں کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تجربہ پاکستان میں ویکسین فیکٹری اور ویکسین سازی کی جدید سہولیات کے قیام میں معاون ثابت ہو گا۔ وزیر نے واضح کیا کہ انڈونیشیا کے تجربے سے سیکھ کر وطنِ عزیز میں مقامی پیداواری صلاحیت کو مضبوط بنایا جائے گا۔وفد کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں حکام نے عالمی معیار کی پیچیدہ تقاضوں اور حفاظتی پروٹوکول کی عملی نفاذ کی مثالیں شیئر کیں۔ سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومتِ پاکستان، عالمی ادارۂ صحت، گیوی اور یونیسف کے مشاہدات اور معاونت کو مدنظر رکھ کر قومی سطح پر خود کفالت کی سمت اقدامات تیز کیے جائیں گے۔دورے کے بعد وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ویکسین فیکٹری کے بہترین عملی طریقوں کو اپنانے سے صحت کے شعبے میں موجودہ خامیوں کو دور کیا جا سکتا ہے اور مستقبل میں وبائی امراض کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ ممکن ہو گا۔
