قصور کے گاؤں سے اغوا شدہ محمد افضل کی بازیابی کا مطالبہ

newsdesk
2 Min Read
راولپنڈی پریس کلب میں خاندان نے قصور پولیس سے نو سال قبل اغوا ہونے والے محمد افضل کی فوری بازیابی اور ملزمان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

راولپنڈی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمد طارق نے بتایا کہ ان کے بھائی محمد افضل کو نو سال قبل کوٹ رادھا کرشن کے قریب گاؤں چک نمبر ۱۷ سے اغوا کیا گیا تھا اور وہ پانچ معصوم بچوں کے والد ہیں۔ طارق نے کہا کہ اصل ملزم خالد عرف ساجد کو لاہور پولیس نے گرفتارہ کیا مگر ملزم کی گرفتاری کے باوجود قصور پولیس نے ابھی تک افسرانہ کارروائی کر کے بھائی کو زندہ یا مردہ بازیاب نہیں کروایا۔محمد طارق نے بتایا کہ ان کے بھائی کام کرنے کے بعد مورخہ ۲۴-۱۰-۲۰۱۶ کو خالد عرف ساجد کی نوکری کے نام پر کال موصول ہونے پر موٹر سائیکل ایل ای ایل-۳۸۹۴ پر گھر سے نکل گئے اور شام تک واپس نہ لوٹے۔ گمشدگی کی رپورٹ تھانہ چھانگا مانگا قصور میں مقدمہ نمبر ۷۰۳/۱۶ مورخہ ۲۹-۱۱-۲۰۱۶ کے تحت نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرائی گئی۔طارق نے مزید کہا کہ تفتیش کے دوران اصل کردار نمایاں ہوئے اور معلوم ہوا کہ ملزمان میں خالد عرف ساجد کے علاوہ اس کا بڑا بھائی محمد بشیر بھی شامل ہے جو خود لاپتہ ہے۔ لاقیام ملزم ساجد کو اشتہاری قرار دے کر ایک پولیس فورس نے گرفتار کیا تاہم خاندان کا کہنا ہے کہ قصور پولیس شنوائی نہیں کر رہی اور رشتہ داری یا عناد کی وجہ سے ملزمان کے خلاف ٹھوس کارروائی مؤخر کی جا رہی ہے۔خانِدہ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وزیراعظم، آئی جی پنجاب، ڈی پی او قصور اور سی سی ڈی سے مطالبہ کیا کہ محمد افضل کو زندہ یا مردہ حالت میں بازیاب کروا کر انصاف فراہم کیا جائے اور اس کیس میں ملوث تمام ملزمان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔ طارق نے کہا کہ گھر میں بچوں اور والدین کی حالت تشویشناک ہے، بچے اپنے والد کی واپسی کے منتظر ہیں اور خاندان فوری انصاف کا خواہاں ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے