غیر ملکی ڈاکٹروں کا منصفانہ لائسنسنگ اور شفافیت کا مطالبہ

newsdesk
4 Min Read
اسلام آباد میں غیر ملکی ڈاکٹرز نے لائسنسنگ، عبوری رجسٹریشن اور قومی امتحان میں شفافیت کا مطالبہ کیا اور پرامن مارچ کی پیشگی خبردار

فارن میڈیکل گریجویٹس کے منصفانہ لائسنسنگ نظام اور این آر ای میں شفافیت کے مطالبات، مسائل برقرار رہنے پر پرامن لانگ مارچ کی وارننگ

16 جنوری 2026 | اسلام آباد

فارن میڈیکل گریجویٹس (ایف ایم جیز) نے حالیہ پالیسیوں اور ریگولیٹری تبدیلیوں کے باعث درپیش سنگین مسائل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے منصفانہ اور شفاف نظام کا مطالبہ کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں منعقد ہونے والے ایک اہم مشاورتی اجلاس میں کیا گیا، جس میں ڈاکٹر رافی شیر، ڈاکٹر طاہر خان سکندری، ڈاکٹر عدنان اورکزئی اور ڈاکٹر عبدالرحمن گجر نے شرکت کی۔

اجلاس میں کہا گیا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی جانب سے متعارف کرائی گئی غیر واضح اور سابقہ تاریخ سے نافذ پالیسیوں کے باعث ہزاروں فارن میڈیکل گریجویٹس شدید ذہنی دباؤ، قیمتی وقت کے ضیاع اور پیشہ ورانہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

شرکاء نے مطالبہ کیا کہ افغانستان، روس، کرغزستان، چین اور دیگر ممالک سے میڈیکل تعلیم حاصل کرنے والے تمام متاثرہ فارن میڈیکل گریجویٹس کو موجودہ پالیسی رکاوٹوں کے باوجود لائسنسنگ امتحان میں شرکت کی اجازت دی جائے۔ اجلاس میں ریٹروسپیکٹو قوانین کے باعث متاثرہ گریجویٹس کو پی آر ایم پی (PRMP) فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

این آر ای (نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن) میں شفافیت پر زور دیتے ہوئے شرکاء نے امیدواروں کو جوابی پرچوں کی کاربن کاپیاں فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ تمام فارن میڈیکل گریجویٹس کو انٹرن شپ کے مواقع دیے جائیں، بالخصوص چین سے فارغ التحصیل طلبہ کے مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں، جو ماضی میں اسی راستے سے اپنی پیشہ ورانہ تربیت مکمل کرتے رہے ہیں۔

اجلاس میں این آر ای کے لیے 50 فیصد پاسنگ مارکس کو عالمی معیار اور مقامی گریجویٹس کے مساوی قرار دیتے ہوئے اسے اپنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ محدود اسٹیشنز پر مشتمل لازمی نظامِ امتحان پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا، جس کے باعث غیر متناسب طور پر بڑی تعداد میں امیدوار ناکام ہو رہے ہیں۔ شرکاء نے این آر ای کے امتحانات کی تعداد سال میں دو سے بڑھا کر چار مرتبہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ گریجویٹس کو غیر ضروری تاخیر سے بچایا جا سکے۔

فارن میڈیکل گریجویٹس کی قیادت نے پی ایم ڈی سی کی جانب سے انفرادی نمبرز ظاہر کرنے اور پاس ہونے کے مہینے کی واضح نشاندہی جیسے حالیہ اقدامات کو خوش آئند قرار دیا، تاہم کہا کہ یہ اقدامات بنیادی مسائل کے حل کے لیے ناکافی ہیں۔

ڈاکٹر رافی شیر، ڈاکٹر طاہر خان سکندری، ڈاکٹر عدنان اورکزئی اور ڈاکٹر عبدالرحمن گجر نے واضح کیا کہ فارن میڈیکل گریجویٹس اپنے مسائل کا حل پرامن مذاکرات اور مکالمے کے ذریعے چاہتے ہیں، تاہم اگر مطالبات پر پیش رفت نہ ہوئی تو نوجوان ڈاکٹروں کی جانب سے پرامن لانگ مارچ کا آپشن بھی زیر غور ہے۔

اجلاس کے اختتام پر اس امید کا اظہار کیا گیا کہ حالیہ پریس کانفرنس اور پرامن احتجاج کے بعد ایف ایم جیز اور پی ایم ڈی سی کے درمیان ہونے والی ملاقات مثبت نتائج کی راہ ہموار کرے گی اور جلد منصفانہ، شفاف اور بروقت فیصلے سامنے آئیں گے، تاکہ فارن میڈیکل گریجویٹس باعزت طریقے سے قومی صحت کے نظام کا حصہ بن سکیں۔

Read in English: FMGs Demand Fair Licensing Policies, Transparency in NRE, Warn of Peaceful Long March if Grievances Persist

Copied From: FMG Licensing Reforms Urged as Doctors Press Demands – Peak Point

Share This Article
1 تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے