دنیا کی بڑھتی آبادی میں دس ممالک کا غلبہ

newsdesk
3 Min Read
نئے تخمینوں کے مطابق نو ارب کے قریب پہنچتی عالمی آبادی میں محض دس ممالک کا بڑا حصہ ہے، بھارت اور افریقہ نمایاں محرک ہیں۔

نئے اقوام متحدہ کے تخمینوں اور تحقیقی تجزیوں کے مطابق عالمی آبادی کی رفتار یکساں نہیں رہ گئی اور بڑھتی ہوئی عالمی آبادی کا بوجھ اب چند مخصوص ممالک پر مرکوز ہو چکا ہے۔ دنیا نو ارب کے قریب پہنچنے کی جانب رواں ہے اور اس رفتار میں سب سے بڑا کردار دس ممالک ادا کر رہے ہیں۔اس فہرست میں نمایاں طور پر بھارت ہے جو اگلے چند دہائیوں میں ایک سو سینتالیس ملین افراد کا اضافی بوجھ رکھتا ہے، ایک ایسا اعداد و شمار جو دیگر تمام ممالک کے مجموعی اضافے سے کہیں بڑا ہے۔ بھارت کی یہ تیزی سارا منظرنامہ تبدیل کر رہی ہے اور عالمی پیداوار، کھپت اور سیاسی اثرات پر گہرا اثر ڈالے گی۔افریقہ اس بڑھوتری کا دوسرا بڑا محرک ہے جہاں نائیجیریا پینسٹھ ملین، جمہوریہ کانگو اکیاون ملین، ایتھوپیا چھیالیس ملین، تنزانیہ اٹھائیس ملین اور مصر تیئیس ملین اضافی آبادی کی پیش گوئی کے حامل ہیں۔ مجموعی طور پر یہ پانچ افریقی ممالک دو سو تیرہ ملین سے زائد نئے افراد کا اضافہ ظاہر کرتے ہیں، جو براعظم کی اہمیت اور عالمی آبادیاتی مرکزیت میں تبدیلی کی علامت ہے۔جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا بھی اس دباؤ کا حصہ ہیں؛ پاکستان انسٹھ ملین، بنگلہ دیش پچیس ملین اور انڈونیشیا پچیس ملین اضافے کی پیش گوئی میں شامل ہیں۔ یہ ارتقائی رجحانات رہائش، پانی کی فراہمی، روزگار اور شہری بنیادی ڈھانچے پر تیز اور مسلسل دباؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔اس فہرست میں واحد ترقی یافتہ معیشت ریاستہائے متحدہ ہے جس کا اضافہ اکیس ملین کے قریب دکھایا گیا ہے، جو بنیادی طور پر قدرتی پیدائش اور ہجرت کے امتزاج کا نتیجہ ہے۔ یہ صورتِ حال ترقی یافتہ ممالک میں بڑھتی عمر اور افرادی قوت کے سکڑنے کے مقابلے میں منفرد ہے۔ماہرین اس بڑھتی ہوئی آبادی کو موقع اور خطرہ دونوں قرار دیتے ہیں۔ اگر بھارت، نائیجیریا اور جمہوریہ کانگو جیسے ممالک وقت پر ملازمتیں، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے فراہم کر سکیں تو یہ عالمی معیشت کے لیے فوائد پیدا کر سکتا ہے؛ بصورتِ دیگر بے روزگاری، شہری ہجوم، خوراکی عدم تحفظ اور سماجی بے چینی کے مسائل گہرے ہو سکتے ہیں۔یہ تمام حقائق واضح کرتے ہیں کہ آئندہ دہائیوں کی عالمی آبادی کی شکل انہی چند ممالک کی پالیسیوں، معاشی منصوبہ بندی اور حکمرانی صلاحیت پر منحصر ہوگی۔ بھارت اور متعدد افریقی ریاستیں نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی محاذ پر بھی اہم کردار ادا کریں گی، جبکہ پاکستان سمیت خطّہ بھی ان تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ نہیں رہے گا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے