چوہدری ندیم نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی اٹھائیسویں برسی کے موقع پر پرامن ریلی کی سیکورٹی فراہم نہ کرنے اور پریس کلب ہال میں پولیس اہلکاروں کی طرف سے کارکنوں کو ہراساں کرنے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ایونٹس کے سلسلے میں سب کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے اور اس نوعیت کے حربے استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔چوہدری ندیم نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کو مورخہ 22 دسمبر 2025 کو درخواست دی گئی تھی کہ 29 دسمبر کو چاندنی چوک سے شہادت تک پرامن ریلی کے لئے سیکورٹی فراہم کی جائے، مگر انتظامیہ نے خاموشی اختیار کی۔ بعد ازاں درخواست ڈی پی او راولپنڈی کو بھی دی گئی مگر نہ اجازت ملی نہ کوئی جواب موصول ہوا جس کے باعث ریلی کو پریس کلب لیاقت باغ میں منقعد کرنا پڑا۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ پروگرام پاکستان پیپلز پارٹی اور بھٹو ازم انٹرنیشنل واٹس ایپ گروپس کا تھا، اس کے باوجود سٹی تھانے کی بجائے سپیشل برانچ اور تین تھانوں کے پولیس اہلکار پریس کلب کے ہال میں آ کر شرکا کو ہراساں کرنے پر آمادہ ہوئے جو ناقابلِ قبول ہے۔ چوہدری ندیم نے اسے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے ساتھ ‘‘سوتیلی ماں جیسا سلوک’’ قرار دیا اور فوری نوٹس کا مطالبہ دہرایا۔مقررین میں جنید اعون، سعدیہ عباسی، یاسین المانی، انور خان جدون، راجہ اشفاق کیانی، رابعہ گوجر اور مقصود حسین بھی موجود تھے جنہوں نے واقعے کی مذمت کی اور انتظامیہ کے رویے پر سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اوورسیز پاکستانی آرمی چیف کا پرتپاک استقبال کرتے ہیں تو اسی ملک کے پیپلز پارٹی کارکنوں کے ساتھ اس طرح برتاؤ کیوں کیا جاتا ہے۔بولتے ہوئے چوہدری ندیم نے کہا کہ آج وہ سرخ ٹائی میں موجود ہیں اور سر سبز ٹائی پاکستانی ہونے کی علامت ہے، سرخ رنگ انقلاب کی علامت ہے مگر وہ تشدد یا انتشار چاہتے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو ازم کے پلیٹ فارم سے ناراض کارکنوں کو پارٹی میں واپس لانے کی کوششیں جاری ہیں اور وہ پارٹی کو مضبوط بنانے کے لئے کام کر رہے ہیں تاکہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں کارکن متحد ہوں۔انہوں نے اپیکس کے ذریعے جبری نوکریوں سے نکالے گئے متاثرین کو ریلیف دلانے کی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین کے چہروں پر مایوسی اور ذہنی دباؤ واضح نظر آتا ہے اور امید ہے جلد ان کو مناسب ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ محض انتظامی خاموشی اور جواب دہی سے دوری قابلِ قبول نہیں۔چوہدری ندیم نے سی ڈی اے کی جانب سے کچی آبادیوں میں کارروائیوں کی بھی مذمت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ بے دخل افراد کو متبادل رہائش اور ریلیف فراہم کیا جائے کیونکہ یہ لوگ ووٹر اور سپورٹر بھی ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ایک اور تشویشناک مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رحیم آباد میں شہید بھٹو کے نام سے بنائے گئے پارک کو بدقسمتی سے کچرے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا گیا اور پارک کی تختی بھی ہٹا دی گئی۔ اس ضمن میں گورنر پنجاب سے بات ہوئی ہے جنہوں نے بحالی اور تختی کی تنصیب کا وعدہ کیا ہے اور اس کام میں اپنا کردار ادا کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔چوہدری ندیم نے زور دے کر کہا کہ انتظامیہ کی طرف سے اپنایا گیا یہ رویہ پیپلز پارٹی کی اتحادی حیثیت اور کارکنوں کی خدمات کے خلاف ہے، اس لئے وزیراعظمِ وقت اور وزیراعلیٰ پنجاب سے توقع ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے کر ذمہ داران کے خلاف مناسب کارروائی یقینی بنائیں۔ بھٹو ازم کی روایت کو زندہ رکھنے اور کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے قومی سطح پر انصاف کی فراہمی ضروری ہے۔
