ڈاکٹروں میں برن آؤٹ اور خودکشی کی بڑھتی ہوئی شرح

newsdesk
5 Min Read
ماہرین نے خبردار کیا کہ تقریباﹰ 60 فیصد ڈاکٹر برن آؤٹ کا شکار ہیں اور خودکشی کی شرح عام آبادی سے دگنی ہے، مگر صرف ایک تہائی مدد حاصل کرتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ پاکستان کے بڑے شہروں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز شدید ذہنی اور جسمانی دباؤ کا شکار ہیں اور حالات اتنے تشویشناک ہیں کہ صحتِ عامہ کا توازن متاثر ہو رہا ہے۔ سیمپوزیم میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ساٹھ فیصد ڈاکٹرز میں برن آؤٹ کے علامات پائے جاتے ہیں جبکہ ڈاکٹروں میں خودکشی کی شرح عام آبادی کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے، مگر صرف ایک تہائی طبی پیشہ ور پیشہ ورانہ مدد حاصل کرتے ہیں۔شرکاء نے بتایا کہ طویل دفتری اوقات، مریضوں کا بوجھ، مستقل نیند کی کمی، ٹریفک جام اور موسمِ سرما میں مدھم دھند و سموگ جیسی شہری دشواریاں ڈاکٹرز کی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال رہی ہیں۔ بڑے شہروں بالخصوص لاہور میں ماحولیاتی اور موسمی عوامل، جیسے سرد موسم میں شدت اختیار کرنے والا سموگ، ڈاکٹروں کے اضطراب، افسردگی اور جذباتی تھکن کو بڑھاتے ہیں۔ڈاکٹروں میں برن آؤٹ کے حوالے سے پہلے کیبنٹ تقریر کرنے والے ماہرِ قلب ڈاکٹر ایم ریحان عمر صدیقی نے کہا کہ یہ ایک خاموش عالمی بحران ہے جو اب پاکستان میں بھی واضح دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر ڈاکٹر خود کی دیکھ بھال نظر انداز کرتے ہیں، اکثر بیماری کی صورت میں بھی کام جاری رکھتے ہیں اور خود تشخیص پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ باقاعدہ طبی امداد کم ہی لی جاتی ہے۔سیمپوزیم میں نفسیاتی ماہر ڈاکٹر کلثوم حیدر نے جذباتی لچک پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ ذہنی اور جسمانی صحت باہم مربوط ہیں اور طویل دباؤ اعصابی نظام کو متاثر کر کے جسمانی امراض تک پہنچا سکتا ہے، حتیٰ کہ دل پر منفی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے روز مرہ معمولات میں سادہ مشقیں جیسے مراقبہ، قابو یافتہ سانس، جذبات کو نام دینا اور شکرگزاری کے طریقے اپنانے کا مشورہ دیا تاکہ جذباتی توازن بحال رہے۔پینل ڈسکشن میں کہا گیا کہ ڈاکٹروں کی طرف سے اپنی زندگی کو فراموش کر دینا عام مسئلہ ہے اور مثبت سوچ و جذباتی شعور کو برقرار رکھنا طویل مدتی مضبوطی کے لیے ضروری ہے۔ مقررین نے بتایا کہ افسردگی، اضطراب، مادّہ کے غلط استعمال، خراب خوراک، ورزش کی کمی، نیند کی کمی اور باقاعدہ طبی معائنہ نہ کروانے کے معاملات عام ہیں۔ ان مسائل کے پیچھے وقت کی کمی، احساسِ جرم، بدنامی کا خوف اور ‘‘سپرہیومن’’ سوچ جیسی سماجی رکاوٹیں کارفرما ہیں۔ماہرین نے ائیر لائن آکسیجن ماسک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز کو پہلے خود اپنی صحت کا خیال رکھنا ہوگا تبھی وہ مریضوں کی بہتر دیکھ بھال کر سکتے ہیں۔ انہوں نے نفسیاتی فلاح کے ساتھ مناسب نیند، روزانہ جسمانی سرگرمی، متوازن غذا اور جذباتی نگہداشت کو پیشہ ورانہ ذمہ داری قرار دیا اور ہسپتال انتظامیہ سے کہا کہ ٹیم ورک، ذمہ داریوں کی تقسیم اور حقیقت پسندانہ کام کے اوقات کو یقینی بنایا جائے۔یہ گفتگو "میٹرو کی زندگی” کے عنوان سے منعقدہ قومی سائنسی سیمپوزیم میں ہوئی جو میڈیورس نامی علمی اقدام کے تحت ہڈسن فارما پاکستان کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔ سیشن کی قیادت ڈاکٹر ثانیہ جاوید نے کی جبکہ پینل میں ڈاکٹر منپل سنگھ اور ڈاکٹر مدیحہ سنائی نے بھی شرکت کی۔ ہڈسن فارما پاکستان کے جنرل منیجر برائے فروخت و مارکیٹنگ خاجہ آحاد الدین نے کہا کہ طبی برادری کے فلاح و بہبود کے اقدامات جاری رکھے جائیں گے ورنہ معیاری صحت کی فراہمی اور نظامِ صحت کی پائیداری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ماہرین کا اتفاق تھا کہ "ڈاکٹروں میں برن آؤٹ” کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو یہ نہ صرف فردی سطح پر نقصان دہ ہوگا بلکہ پورے صحت کے نظام کی صلاحیت بھی متاثر ہوگی، لہٰذا طبی پیشہ وران کی باقاعدہ نگہداشت اور ذہنی تندرستی کو ترجیح دینا وقت کی ضرورت ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے