اسلام آباد، ۲۴ دسمبر، ۲۰۲۵ — وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے کرسمس کے موقع پر خصوصی تقریب کا انعقاد کیا جہاں وفاقی وزیر سردار محمد یوسف اور وزیر مملکت کھیئل داس کوہستانی نے شرکت کی۔ تقریب میں مسیحی برادری کے رہنماؤں کے ہمراہ کرسمس کا کیک کاٹا گیا اور تہوار کی خوشیاں بانٹی گئیں۔تقریب سے خطاب میں وفاقی وزیر نے مسیحی برادری کو تہوار کی مبارکباد دی اور کہا کہ تمام مذاہب کی تعلیمات محبت، ہمدردی اور رواداری پر مبنی ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مذہبی اور ثقافتی تنوع پاکستان کی خوشحالی اور استحکام کا موجب ہے اور کرسمس کے اس جشن میں قومیت سے بڑھ کر رواداری کا پیغام موجود ہے۔وفاقی وزیر نے مسیحی برادری کے اہم کردار پر زور دیا کہ انہوں نے عدلیہ، افواج، تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت ملک میں اقلیتوں کو سیاسی، معاشی اور سماجی حقوق میسر ہیں اور حکومت ان حقوق کے تحفظ کیلئے پرعزم ہے۔خطاب میں وفاقی وزیر نے قائد اعظم محمد علی جناح کے ۱۱ اگست، ۱۹۴۷ کے بیان کا حوالہ دیا کہ ہر شہری کو بلا تفریق رنگ و نسل اور مذہب برابر حقوق حاصل ہوں گے اور نئی ریاست میں مکمل مذہبی آزادی ہو گی۔ اس حوالہ کو انہوں نے اس عزم کے اظہار کے طور پر دہرایا کہ پاکستان میں کرسمس سمیت تمام مذہبی تہوار سرکاری سطح پر منائے جائیں گے۔وزارت نے اس موقع پر بتایا کہ موجودہ حکومت میں صوبوں اور وفاقی کابینہ میں اقلیتوں کی نمائندگی برقرار ہے اور مسلم لیگ ن بطور جماعت اقلیتی برادریوں کے حقوق کے تحفظ کی کوششوں میں فعال رہی ہے، اور اسی تناظر میں وزارت اقلیتوں کی عبادت گاہوں اور تاریخی ورثے کے تحفظ اور بحالی کے اقدامات کر رہی ہے۔تقریب کے آخر میں وفاقی وزیر اور وزیر مملکت نے شرکت کرنے والے مسیحی برادری کے ارکان میں تحائف تقسیم کیے اور تمام شہریوں کے لیے امن اور بھائی چارے کے پیغام کا اعادہ کیا۔ وزارت کی طرف سے کرسمس کے حوالے سے کیے گئے ان اقدامات کو مذہبی ہم آہنگی کی کوششوں کے تحت پیش کیا گیا۔
