30.5 C
Islamabad
اتوار, مئی 19, 2024

ضرور پڑھنا

تبصرے

الرئيسيةراولپنڈیمری کو 14 اکتوبر 2022 کو ضلع کا درجہ دے دیا گیا۔...

مری کو 14 اکتوبر 2022 کو ضلع کا درجہ دے دیا گیا۔ مری اسلام آباد راولپنڈی سے 39 کلومیٹر دور ہے

مری کو 14 اکتوبر 2022 کو ضلع کا درجہ دے دیا گیا۔ مری اسلام آباد راولپنڈی سے 39 کلومیٹر دور ہے۔ سطح سمندر سے اس کی بلندی 7500 فٹ ہے۔انگریزوں نے سرد مقام کی تلاش میں مری کو منتخت کیا اور یہاں 1849 میں پہلا پارک تعمیر کیا گیا۔1907 تک پنڈی سے مری تانگوں پر جایا کرتے تھے۔جس میں سارا دن تک صرف ہو جاتے تھے جبکہ اب یہ سفر ایک گھنٹے تک رہ گیا ہے۔دسمبر،جنوری اور فروری مری کے سرد ترین مہینے ہیں جس میں بڑی تعدد میں سیاح برف باڑی دیکھنے کے لیئےآتے ہیں

مری کا سفر سر سبز پہاڑوں، گھنے جنگلات اور دوڑتے رقص کرتے بادلوں کے حسیں نظاروں سے بھرپور ہے۔ گرمیوں میں سر سبز اور سردیوں میں سفید رہنے والے مری کے پہاڑ سیاحوں کے لیے بہت کشش کاباعث ہیں۔

اس سات ہزار فُٹ بلند سیاحتی مقام کی بنیاد برطانوی دور حکومت میں رکھی گئی تھی۔ لیکن آج کل مری سطح سمندر سی تقریباََِ 2300 میٹر یعنی 8000 فُٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ مری کی بنیاد 1851 میں رکھی گئی تھی اور یہ برطانوی حکومت کا گرمائی صدر مقام بھی رہا۔ ایک عظیم الشان چرچ شہرکے مرکز کی نشان دہی کرتا ہے۔ یہ 1857 میں تعمیر ہوا۔ چرچ کے ساتھ سے شہر کی مرکزی سڑک گزرتی ہے جسے "مال روڈ” کہا جاتا ہے۔ یہاں شہر کے مشہور تجارتی مراکز اور کثیر تعداد میں ہوٹل قائم ہیں۔ مال روڈ سے نیچے مری کے رہائشی علاقے اور بازار قائم ہیں۔ خشک میوہ جات اور سامان آرائش (ڈیکوریشن پیس)کی دکانیں پائی جاتی ہیں۔ 1947ء تک غیر یورپی افراد کا مال روڈ پر آنا ممنوع تھا۔

مری "30 ’54 33 شمال عرض و بلد اور "30 ’26 73 مشرق عرض و بلد پر اور سطح سمندر سے 7،517 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ راولپنڈی اسلام آباد سے ایک گھنٹے (54 کلومیٹر) کی مسافت پر یہ پنجاب کا سب سے زیادہ قابل رسائی پہاڑی سیاحتی مقام ہے۔ یہاں سے آپ موسمِ گرما میں کشمیر کی برف پوش پہاڑیوں کا نظارہ کر سکتے ہیں جبکہ بارشوں کے دنوں میں (جولائی سے اگست) بادلوں کے کھیل تماشے اور سورج کے غروب ہونے کا منظر تو روز ہی نظر آتا ہے۔ اس پہاڑی تفریح گاہ کے کچھ حصے خصوصاً کشمیر پوائنٹ جنگلات سے بھرپور اور انتہائی خوبصورت ہیں ۔

مری کی ایک علیحدہ سی کشش ہے۔ یہاں پہنچ کر آپ فطرت کو اپنے قدموں تلے محسوس کرتے ہیں ۔ موسم گرماکے دوران یہاں سے کشمیر کے دل آویز برف پوش چوٹیوں کا نظارہ کر سکتے ہیں جبکہ بارشوں کے دنوں میں آپ کو اکثر یہاں سورج اور بادلوں کی آنکھ مچولی دیکھنے کو ملے گی۔ یہاں پر گرمیوں میں اُ گائے جانے والے مشہور پھلوں میںسیب،ناشپاتی اور خوبانی، آلو بخارہاور آلوچہ وغیرہ شامل ہیں۔ آپ کو یہاں ہر جگہ پہاڑی لوگوں کی ثقافت دیکھنے کو ملے گی۔ پہلے یہ کشمیر کا حصہ تھا

ضرور پڑھنا

LEAVE A REPLY

براہ کرم اپنا تبصرہ درج کریں۔
من فضلك ادخل اسمك هنا