27 C
Islamabad
جمعہ, مئی 10, 2024

ضرور پڑھنا

تبصرے

الرئيسيةمعلوماتموسمیاتی تبدیلیاں زمینوں کی صحت اور فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کیلئے...

موسمیاتی تبدیلیاں زمینوں کی صحت اور فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کیلئے بہت بڑا چیلنج قرار

صوبائی وزیر برائے زراعت پنجاب حسین جہانیاں گردیزی کا کہنا ہے کہ  موسمیاتی تبدیلی، زرعی زمینوں کی صحت اور فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کیلئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ زمین کے تحفظ اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیں اپنا قومی فریضہ ادا کرنا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں “زمینی صحت اور تحفظ” کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ قومی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔

 وزیر زراعت پنجاب سیدحسین جہانیاں گردیزی نے کہا ہے کہ فوڈ سیکورٹی اور موسمیاتی تبدیلیاں مستقبل کے بڑے چیلنجز ہیں جن سے نبرآزما ہونے کیلئے ٹھوس اور طویل المدتی حکمت عملی پر عمل کرنا ہوگا۔ زمین قدرت کا انمول تحفہ ہے کیونکہ یہ ہماری غذائی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہمیں اس کے تحفظ کیلئے اپنا قومی فریضہ ادا کرنا ہوگا۔

کانفرنس میں ایڈیشنل سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب امتیاز احمد، پرو وائس چانسلربہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر علی محمد، ڈین فیکلٹی پروفیسر ڈاکٹر حکومت علی سمیت ملک بھر سے سوائل سائنٹسٹس نے شرکت کی۔

اس موقع پر صوبائی وزیر زراعت کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان 10 ممالک میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ کلائمیٹ چینج کی وجہ سے موسم میں شدت آچکی ہے اوراوسط درجہ حرارت بڑھ چکا ہے

انھوں نے فصلوں کی پیداوار کے حوالے سے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ہماری فصلوں کی پیداوار پر براہ راست اثر انداز ہورہا ہے۔ مختلف فصلوں کی مسلسل کاشت، زرعی زہروں اور کیمیائی کھادوں کے غیر متوازن استعمال سے زمین کی صحت بری طرح متاثر ہورہی ہے۔

کلائمیٹ چینج، زمینی کٹاؤ، زمینوں کے کلراٹھے پن میں اضافہ، جنگلات کا کٹاؤ، زرعی زہروں و کیمیائی کھادوں کا بے جا استعمال، فصلوں کی باقیات کو جلانا یہ ہماری زمینی صحت کی خرابی اور موسمیاتی تبدیلی کے بنیادی محرکات ہیں جن کا پائیدار حل وقت کی ضرورت ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے ہم نہ صرف زمین کی صحت کو بحال کرسکتے ہیں بلکہ ایکو سسٹم کو بھی بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے یونیورسٹیوں سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کا اشتراک وقت کی ضرورت ہے تاکہ زمین کی صحت اور زرخیزی کے بارے میں شعور اجاگر کیا جاسکے۔

اس موقع پر پرو وائس چانسلر بی زیڈ یو پروفیسر ڈاکٹر علی محمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کو درپیش زرعی چیلنجز پر آگاہی کیلئے ایسی کانفرنسز کا انعقاد ضروری ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ہماری معیشت کا دارومدار زراعت پر ہے۔ معیشت کی بہتری کیلئے ہمیں اپنی زمینوں کے پوٹینشل کے مطابق پیداوار حاصل کرنی ہوگی۔ بڑھتی ہوئی آبادی کیلئے خوراک کو پورا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ سوائل پوٹینشل میں اضافہ اور اس کی صحت بحالی پر بھی فوکس کیا جائے۔

ضرور پڑھنا

LEAVE A REPLY

براہ کرم اپنا تبصرہ درج کریں۔
من فضلك ادخل اسمك هنا