اسلام آباد: الجزائر کے سابق صدر لیامین زیروال طویل علالت کے بعد 29 مارچ 2026 کو 84 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ 1994 سے 1999 تک الجزائر کے صدر رہے اور اس دوران ملک کو خانہ جنگی کے مشکل دور سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔
اسلام آباد میں الجزائر کے سفارتخانے نے سابق صدر کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تعزیتی کتاب کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ تعزیتی کتاب سفارتخانے کے احاطے واقع مکان نمبر 107، گلی نمبر 9، سیکٹر ای-7 میں یکم اپریل سے دو اپریل 2026 تک صبح 10 بجے سے دوپہر 12 بجے اور دوپہر 2 بجے سے شام 4 بجے تک عوام کے لیے دستیاب ہوگی۔
لیامین زیروال ایک ممتاز فوجی اور سیاسی رہنما تھے جنہوں نے الجزائر میں "سیاہ دہائی” کے نام سے جانے جانے والے پرتشدد دور میں قیادت سنبھالی۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کیے اور "قومی مفاہمتی قانون” متعارف کرا کے ملک میں امن و استحکام کے قیام کی بنیاد رکھی۔
وہ 1957 میں محض 16 سال کی عمر میں قومی آزادی فوج میں شامل ہوئے اور بعد ازاں آزادی کے بعد عوامی قومی فوج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ انہوں نے سوویت یونین اور فرانس کے جنگی کالج میں عسکری تربیت حاصل کی اور مختلف فوجی علاقوں کی کمان سنبھالی۔ بعد ازاں وہ بری افواج کے کمانڈر مقرر ہوئے اور 1989 میں فوج سے سبکدوش ہو گئے۔
سیاسی میدان میں انہوں نے رومانیہ میں سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں اور 1993 میں وزیرِ دفاع مقرر ہوئے۔ 31 جنوری 1994 کو وہ صدر کے منصب پر فائز ہوئے اور 1995 میں باقاعدہ طور پر منتخب صدر بنے۔ وہ اپریل 1999 تک اس عہدے پر رہے۔
لیامین زیروال کو ایک مدبر رہنما کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے اقتدار پرامن طریقے سے منتقل کرنے کی روایت قائم کی۔ انہوں نے مستعفی ہو کر صدارتی انتخابات کا اعلان کیا اور اقتدار مرحوم صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے حوالے کیا۔
سفارتخانے کی جانب سے عوام اور سفارتی حلقوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات درج کر کے مرحوم کے اہلِ خانہ اور الجزائر کی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں۔
