نوجوانوں کے لیے منظم فائٹ لیگ کی کامیابی

newsdesk
4 Min Read
ریئل ورلڈ فائٹ لیگ ونٹر وارز لاہور میں منعقد ہوئی، چھ سالہ خدمات، حفاظتی ضوابط اور نوجوانوں کو منظم تربیت سے مستقبل کے مواقع فراہم کرتی ہے

ریئل ورلڈ فائٹ لیگ کا ونٹر وارز ایڈیشن بریو جم لاہور میں منعقد ہوا جس نے ملک میں نوجوانوں کے لیے منظم اور محفوظ مقابلوں کا ایک اور باب رقم کیا۔ یہ ایونٹ چھ سالہ تسلسل کا مظہر تھا اور اس نے دکھایا کہ نوجوان جذبہ اور تربیت کے ذریعے باوقار سرگرمیوں میں بدل سکتا ہے۔ فائٹ لیگ نے واضح طور پر یہ ثابت کیا کہ تربیت، نظم و ضبط اور حفاظت کو ترجیح دے کر مقابلوں کو مثبت سمت میں لیکر جایا جا سکتا ہے۔اس مقابلے میں مختلف تعلیمی اداروں کے اسٹوڈنٹ ایتھلیٹس نے حصہ لیا جن میں لاہور گرامر اسکول، ایچی سن کالج، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی اور انٹرنیشنل سکول لاہور شامل تھے۔ ساتھ ہی لاہور، اسلام آباد اور کراچی کے لڑاکا بھی ایونٹ کا حصہ بنے، جس سے اس لیگ کی قومی سطح پر پھیلاؤ کا عندیہ ملا۔ایونٹ میں قریباً دس پروفیشنل نگرانی میں لڑائیاں منعقد ہوئیں جو سخت حفاظتی ضوابط کے تحت کروائی گئیں۔ فائٹ لیگ نے ایتھلیٹس کی فلاح و بہبود، تربیتی معیار اور نظم و ضبط کو اولین اہمیت دی، تاکہ نوجوان باحفاظت اپنی صلاحیتیں آزما سکیں اور کھیل سے وابستہ رہنمائی حاصل کریں۔شام کے سب سے یادگار مقابلوں میں خواتین کا میچ تھا جہاں رومیسا جو بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کی طالبہ اور بریو جم کی کھلاڑی ہیں، نے تین سخت راؤنڈز کے بعد پاکستان کی قومی طلائی تمغہ یافتہ باکسر کو شاندار انداز میں شکست دی۔ اس مقابلے نے خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار اور موجودہ دور میں ان کی مضبوط موجودگی کو اجاگر کیا۔انٹرنیشنل سکول لاہور کی ایمن زہرا نے ثابت قدمی اور حوصلے کی بہترین مثال پیش کی، جب کہ مین ایونٹ میں رمزن اور عفان، جو بالترتیب سپرئیر یونیورسٹی اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے نمائندے تھے، نے پانچ راؤنڈز پر مشتمل سنسنی خیز مقابلہ دیا جس نے ایونٹ کا اختتام پر جوش برقرار رکھا۔ لاہور اور اسلام آباد کے درمیان مقابلہ بازی نے کھیل کی گہرائی اور مضبوط مقابلہ جاتی روح کا مظاہرہ کیا۔پاکستان مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریشن کے صدر عمر احمد نے کہا کہ ریئل ورلڈ فائٹ لیگ کا مقصد نوجوانوں کو نظم و ضبط اور کنٹرولڈ ماحول میں اپنی ہمت اور ثابت قدمی آزمانے کا موقع دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیل افراد میں خود اعتمادی، محنت، قیادت اور عاجزی جیسی خصوصیات پیدا کرتا ہے جو زندگی کے دیگر شعبے میں بھی کام آتی ہیں۔عمر احمد نے مزید کہا کہ بہت سے شرکاء بعد ازاں پیشہ ورانہ میدانوں اور قائدانہ عہدوں تک پہنچتے ہیں، جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لاتا ہے۔ انہوں نے روایتی ٹیپ بال کرکٹ کی طرز پر ایم ایم اے کے وسیع پیمانے پر پھیلنے اور تجارتی و ثقافتی اہمیت اختیار کرنے کی صلاحیت پر بھی اعتماد ظاہر کیا۔ریئل ورلڈ فائٹ لیگ کی کامیابی میں قیم عباس کے طویل عرصے سے جاری وژن اور بریو جم کی رہنمائی نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ لیگ اب ساتویں سال میں داخل ہو رہی ہے اور نوجوانوں اور تاثر کے درمیان پائے جانے والے خلام کو ختم کرتے ہوئے انہیں نظم و ضبط، کردار سازی اور ذمہ دار شہری بننے کے راستے پر گامزن کر رہی ہے۔ فائٹ لیگ نے ثابت کیا ہے کہ مناسب تربیت اور رہنمائی سے نوجوان اپنے جوش کو مثبت اور موثر انداز میں استعمال کر سکتے ہیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے