نیشنل اسکلز یونیورسٹی اسلام آباد کو عالمی معیار کی ٹیکنالوجی یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کے لیے شینڈونگ شِنشو انٹرنیشنل کی 30 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری
اسلام آباد: نیشنل اسکلز یونیورسٹی (این ایس یو) اسلام آباد اور چین کی شینڈونگ شِنشو انٹرنیشنل کارپوریشن کے درمیان مہارت پر مبنی تعلیم کے فروغ کے لیے ایک اہم شراکت داری طے پا گئی ہے، جسے پاکستان کے اعلیٰ تعلیم اور عملی مہارتوں کے شعبے میں ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
اس سلسلے میں مفاہمتی یادداشت (LoU) پر دستخط کی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جس میں وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ معاہدے پر شینڈونگ شِنشو انٹرنیشنل کی جانب سے چیف ایگزیکٹو آفیسر مس ٹریسی لی جبکہ نیشنل اسکلز یونیورسٹی کی نمائندگی بانی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار نے دستخط کیے۔ تقریب میں یونیورسٹی کی سینئر قیادت اور چینی کمپنی کے اعلیٰ سطحی وفد کی شرکت نے اس اشتراک کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کیا۔
معاہدے کے تحت شینڈونگ شِنشو انٹرنیشنل کارپوریشن ابتدائی طور پر 30 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی، جس کا مقصد این ایس یو کے تعلیمی ڈھانچے، لیبارٹریز، ورکشاپس اور تربیتی نظام کو عالمی معیار کی ووکیشنل اور اپلائیڈ ٹیکنالوجی کے مطابق جدید بنانا ہے۔ اس سرمایہ کاری میں سے ابتدائی طور پر 10 ملین ڈالر کراچی میں نیشنل اسکلز یونیورسٹی کے نئے کیمپس کے قیام کے لیے مختص کیے جائیں گے، جبکہ اس مقصد کے لیے زمین بھی شینڈونگ شِنشو کی جانب سے فراہم کی جائے گی۔
شراکت داری کے تحت نصاب کو چین کے جدید ووکیشنل نظام، بالخصوص زیبو پولی ٹیکنک ماڈل سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اپلائیڈ اور صلاحیت پر مبنی تعلیم کو فروغ دیا جائے گا۔ تعاون کے نمایاں شعبوں میں انڈسٹری 4.0 ٹیکنالوجیز، اسمارٹ مینوفیکچرنگ، آٹومیشن، ڈیجیٹل کنسٹرکشن، قابلِ تجدید توانائی کے نظام اور جدید اپلائیڈ انجینئرنگ شامل ہیں، تاکہ پالیسی سطح کے معاہدوں کو عملی تدریسی، لیبارٹری اور ورکشاپ نتائج میں بدلا جا سکے۔
مؤثر نفاذ اور نگرانی کے لیے فریقین پر مشتمل ایک مشترکہ اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کی جائے گی۔ معاہدے کے مطابق شینڈونگ شِنشو کی طویل المدتی سرمایہ کاری اور سہولیات کی فراہمی کے باعث انتظامی امور مشترکہ گورننس فریم ورک کے تحت چلائے جائیں گے، جس میں شینڈونگ شِنشو کو اسٹریٹجک سطح پر اکثریتی کردار حاصل ہوگا، تاہم یہ سب ملکی قوانین اور ضوابط کے دائرے میں ہوگا۔ نیشنل اسکلز یونیورسٹی اپنی پبلک سیکٹر حیثیت برقرار رکھے گی، جبکہ بین الاقوامی پروگراموں اور مشترکہ منصوبوں کے لیے انتظامی اختیارات شینڈونگ شِنشو کی نامزد قیادت کے ذریعے استعمال کیے جائیں گے۔
اس شراکت داری میں فیکلٹی ڈویلپمنٹ کو مرکزی اہمیت حاصل ہوگی۔ چینی ماہرین ٹریننگ آف ٹرینرز، مشترکہ تدریس اور نصاب کی مقامی سطح پر تطبیق میں معاونت کریں گے، جس سے تدریسی معیار بہتر ہوگا اور بتدریج پاکستانی اساتذہ کی قیادت کو فروغ ملے گا۔
پاکستانی نوجوانوں کے لیے یہ معاہدہ انٹرن شپ، اپرنٹس شپ اور روزگار کے باقاعدہ مواقع فراہم کرے گا، جو ملکی صنعت، سی پیک فیز ٹو منصوبوں اور بین الاقوامی لیبر مارکیٹس سے منسلک ہوں گے، یوں نوجوانوں کی ملکی و بیرونِ ملک روزگار کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
معاہدے کا ایک اہم نتیجہ کراچی میں نیشنل اسکلز یونیورسٹی کے نئے کیمپس کا قیام ہے، جسے جدید ووکیشنل تربیت، اپلائیڈ انجینئرنگ، میری ٹائم و لاجسٹکس تعلیم اور صنعت سے جڑے پروگراموں کا مرکزی ادارہ بنانے کا منصوبہ ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حکام نے بتایا کہ وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اس منصوبے میں سہولت کاری، رابطہ کاری اور اسٹریٹجک معاونت فراہم کرے گی، تاکہ یہ اقدام قومی اسکلز اسٹریٹیجی، ٹی وی ای ٹی اصلاحات، این وی کیو ایف فریم ورک اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے رہنما اصولوں سے ہم آہنگ رہے۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار کے مطابق یہ منصوبہ نیشنل اسکلز یونیورسٹی کے اس وژن کا عکاس ہے، جس کا مقصد مہارتوں کو قومی اثاثہ بنانا اور نوجوانوں کو عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنانا ہے۔
اختتامی کلمات میں وفاقی وزیر نے کہا کہ اگرچہ پاکستان نے متعدد بین الاقوامی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں، تاہم کم ہی ایسے معاہدے ہیں جو سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر کی ترقی، نصاب میں اصلاحات، فیکلٹی کی تربیت اور نئے کیمپس کے قیام کو ایک ہی پبلک سیکٹر فریم ورک میں یکجا کرتے ہوں۔ ان کے بقول این ایس یو اور شینڈونگ شِنشو کا یہ معاہدہ محض رسمی دستاویز نہیں بلکہ پائیدار، مہارت پر مبنی ترقی کے لیے ایک قابلِ عمل روڈ میپ ہے۔
