خواتین کے وراثتی حقوق میں اصلاحات کی ضرورت

newsdesk
3 Min Read
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں اجلاس میں خواتین کے وراثت کے حقوق کی حفاظت، اسلامی فقہ کے ساتھ ہم آہنگی اور شکایتی نظام کی ضرورت پر زور دیا گیا

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں خواتین پارلیمانی گروپ کا اجلاس ۲۵ ستمبر ۲۰۲۵ کو اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں قانون ساز اور مذہبی ماہرین نے شرکت کر کے خواتین کے معاشی حقوق پر تبادلہ خیال کیا۔اجلاس میں سیکرٹری خواتین پارلیمانی گروپ ڈاکٹر شاہدہ رحمانی، چیئرمین خصوصی کمیٹی برائے صنفی امور ڈاکٹر نفیسہ شاہ، رکن قومی اسمبلی سیدہ شہلا رضا اور چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ محمد راغب حسین نعیمی شریک تھے اور شرکاء نے قانون میں اصلاحات کے لازمی اقدامات پر غور کیا۔شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اسلامی فقہ کو پاکستانی قانونی نظام کے ساتھ ہم آہنگ کر کے خواتین کو ان کے جائز حصے بلا امتیاز اور دباؤ کے بغیر فراہم کیے جائیں۔ اس تناظر میں وراثت کے حقوق کو عملی طور پر یقینی بنانے کے لیے قانون سازی کے ساتھ ساتھ سماجی آگاہی ضروری قرار دی گئی۔اجلاس میں خواتین کی شعور سازی اور صلاحیتوں میں اضافہ، عدالتوں اور ضلعی سطح پر قابل رسائی شکایتی میکانزم کا قیام اور مقامی سطح پر معلوماتی و تربیتی پروگرامز کے قیام پر زور دیا گیا تاکہ ان خواتین کو فوری مدد اور رہنمائی مل سکے جو اپنے وراثتی حقوق سے محروم ہیں۔علامہ محمد راغب حسین نعیمی نے واضح کیا کہ قرآن و سنت کے اصول محض نظریاتی نہیں بلکہ عملی زندگی میں نافذ ہونے چاہئیں تاکہ کوئی عورت اپنے جائز حصے سے محروم نہ رہے۔ اس مؤقف پر شرکاء نے قانون و مذہب کے مابین ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا۔ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے اجلاس کو ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ موثر اصلاحات خواتین کی عزت، مالی تحفظ اور انصاف تک رسائی کو یقینی بنائیں گی اور قانونی حقوق کو حقیقی زندگی سے ہم آہنگ کریں گی۔ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور سیدہ شہلا رضا نے زور دیا کہ وراثتی قوانین میں تبدیلیاں صنفی برابری اور معاشی بااختیاری کے لیے ناگزیر ہیں، خاص طور پر بیواؤں، طلاق یافتہ خواتین اور ان افراد کے لیے جو مرد رشتہ داروں کی جانب سے اپنے حصے سے محروم کیے جاتے ہیں۔اجلاس نے ایک مسلسل اور کثیرالجہتی کوشش کے آغاز کا اشارہ دیا جس کا مقصد اسلامی تعلیمات کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے موجودہ سماجی اور معاشی تقاضوں کے مطابق وراثتی نظام کو جدید اور خواتین کے لیے محفوظ بنانا ہے، تاکہ حقیقت میں وراثت کے حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے