خواتین کے اثر و رسوخ کے لیے نئی پالیسی کا حتمی مسودہ

newsdesk
4 Min Read
خیبر پختونخوا کمیشن نے خواتین کو بااختیار بنانے کی پالیسی ۲۰۲۶ تا ۲۰۳۰ کا حتمی مسودہ تیار کر لیا، سمری کے بعد کابینہ منظوری پر ۱۲ فروری کو لانچ ہوگا

خیبر پختونخوا کمیشن آن دی اسٹیٹس آف وومن نے چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس کی قیادت میں خواتین کو بااختیار بنانے کی پالیسی ۲۰۲۶ تا ۲۰۳۰ کا حتمی مسودہ تیار کر لیا ہے اور اسے سمری کے ذریعے کابینہ سے منظوری کے بعد ۱۲ فروری کو قومی یومِ خواتین کے موقع پر باضابطہ طور پر لانچ کرنے کی حکمتِ عملی وضع کی جا رہی ہے۔ یہ مسودہ صوبے میں خواتین کی سماجی، اقتصادی اور سیاسی شرکت کو بڑھانے کے واضح اہداف اور نفاذی میکانزم وضع کرتا ہے۔پشاور میں کمیشن کے دفتر میں منعقدہ اجلاس کی صدارت چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس نے کی اور تکنیکی کمیٹی کے ارکان عائشہ بانو، اکرام اللہ خان، شازیہ عطا، سیدہ ندرت اور زینب خان سمیت متعلقہ نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں مسودہ رپورٹ پر تفصیلی پیشکش دی گئی اور اراکین سے مفصل مشاورت کے بعد ضروری تجاویز شامل کی گئیں تاکہ اس خواتین پالیسی کو عملی اور علاقائی ضروریات کے مطابق بنایا جا سکے۔اجلاس میں پالیسی کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا، جن میں اہداف طے کرنا، نفاذ کے طریقہ کار، ادارہ جاتی ذمہ داریاں اور مانیٹرنگ مکینزم شامل تھے تاکہ خواتین پالیسی کے نتائج صوبے میں نمایاں ہوں۔ ممبران نے علاقے کی حقیقی صورتحال کے پیشِ نظر سفارشات دیں تا کہ پالیسی کے نفاذ سے ہر عمر کی خواتین کے خلاف صنفی امتیاز میں کمی آئے اور انہیں انصاف تک آسان رسائی میسر ہو۔مسودے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ خواتین پالیسی صوبائی سطح پر نافذ دیگر پالیسیاں اور آئینِ پاکستان کے اصولوں کے عین مطابق ہے۔ اراکین نے اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی، سروِسز تک مؤثر رسائی اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مربوط حکمتِ عملی پر اتفاق کیا تاکہ طویل المدت میں معاشرتی بہتری ممکن ہو۔اجلاس میں خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ اور گارنٹی کے حوالے سے مروجہ قوانین کی روشنی میں تجاویز پر غور کیا گیا۔ اسی طرح صوبائی کابینہ سیٹ اپ، لوکل گورنمنٹ باڈیز، سالانہ بجٹ، مشاورتی فورمز، قائمہ کمیٹیاں اور منصوبہ بندی کے عمل میں خواتین کی مناسب نمائندگی کو یقینی بنانا اس پالیسی کا اہم حصہ قرار پایا تاکہ فیصلے سازی کے ہر مرحلے پر خواتین کی شمولیت یقینی بن سکے۔مجوزہ پالیسی کے تحت سرکاری خدمات تک مؤثر رسائی، خواتین کے بنیادی اور اقتصادی حقوق کے تحفظ، اور روزگار و وسائل تک مساوی رسائی کو ترجیحی بنیادوں پر رکھا گیا ہے۔ اس سے قلیل، وسطانی اور طویل مدتی فوائد متوقع ہیں جو خواتین کی مجموعی فلاح و بہبود اور بااختیاری میں واضح کردار ادا کریں گے اور مقامی سطح پر مثبت تبدیلیاں لائیں گے۔ٹیکنیکل کمیٹی کی منظوری کے بعد پالیسی متعلقہ محکموں سے توثیق کے لیے بھیجی جائے گی اور بعد ازاں صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کی جائے گی۔ پالیسی کے نفاذ کا مرحلہ وار شیڈول اور مانیٹرنگ فریم ورک بھی وضع کیا جا رہا ہے تاکہ خواتین پالیسی کے اہداف کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جا سکے۔کمیشن نے مختصر عرصے میں، تین ماہ کے اندر، اس اہم سنگِ میل کو حاصل کیا ہے جو چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس کی قیادت اور صوبائی ویژن کا نتیجہ ہے۔ تکنیکی کمیٹی کی جانب سے پیش کردہ یہ خواتین پالیسی مستقبل میں صوبے میں خواتین کے حقوق کے فروغ اور بااختیاری کے اقدامات کے لحاظ سے نمایاں اثرات مرتب کرے گی۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے