قومی یومِ کام کرنے والی خواتین کے موقع پر وزارتِ انسانی حقوق نے مرکزِ فلاح و ترقی برائے خواتین کے ذریعے اسلام آباد اور راولپنڈی کی خواتین تاجراتی تنظیموں اور تنظیمِ "روزان” کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتیں طے کیں تاکہ خواتین کی معاشی حیثیت کو مستحکم کیا جا سکے۔ یہ اقدام خواتین کے روزگار اور کاروباری مواقع بڑھانے کی کوششوں کو تقویت دینے کی کوشش تصور کیا جا رہا ہے۔معاہدوں کا مقصد مہارتوں کی تربیت، کاروباری معاونت اور مارکیٹ تک بہتر رسائی فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔ ان منصوبوں کے تحت تربیتی پروگرامز اور کاروباری رہنمائی کے ذریعے خواتین کو خود اپنا روزگار شروع کرنے اور موجودہ کاروبار بڑھانے کے مواقع ملیں گے، جس سے خواتین کی خودمختاری میں واضح بہتری متوقع ہے۔ساتھ ہی ان مفاہمتوں میں سماجی بہبود مراکز اور خاندانی تحفظ و بحالی مراکز کے ذریعے نفسیاتی صحت کی سہولیات فراہم کرنے کا بھی اہتمام شامل ہے تا کہ کام کرنے والی خواتین کو نہ صرف معاشی بلکہ ذہنی اور جذباتی مدد بھی میسر ہو۔ حکام نے کہا ہے کہ ذہنی صحت کی خدمات کاروباری استحکام کے لیے لازم ہیں اور یہ اقدام خواتین کے مجموعی معیارِ زندگی کو بہتر کرے گا۔وزارتِ انسانی حقوق نے اس موقع پر باعزت، محفوظ اور مساوی کام کے ماحول کے قیام کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی شرکت ملک کی معاشی ترقی کے لیے لازمی ہے اور ان شراکت داریوں سے موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے حاملِ مثبت تبدیلیاں متوقع ہیں۔ خواتین کی خودمختاری کو فروغ دینے کے لیے یہ قدم قومی اقتصادی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
