وائس چانسلر بارانی زرعی یونیورسٹی کا سینٹر برائے جدید زرعی و آبی ٹیکنالوجیز، یونیورسٹی ریسرچ فارم کونٹ کا دورہ

newsdesk
4 Min Read
پروفیسر ڈاکٹر قمرالزمان نے یونیورسٹی ریسرچ فارم کوٹ میں جدید زرعی مرکز کا دورہ کر کے تحقیقی منصوبوں اور آبپاشی ٹیکنالوجی کا جائزہ لیا

وائس چانسلر بارانی زرعی یونیورسٹی کا سینٹر برائے جدید زرعی و آبی ٹیکنالوجیز، یونیورسٹی ریسرچ فارم کونٹ کا دورہ

پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمرالزمان نے یونیورسٹی ریسرچ فارم کونٹ میں قائم سینٹر برائے جدید زرعی و آبی ٹیکنالوجیز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جاری تحقیقی و ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا جو کہ پائیدار اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی کاشتکاری کے فروغ کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں۔ دورے کے دوران وائس چانسلر صاحب کو مختلف اہم منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جن میں مصنوعی نسل کشی منصوبہ، شہد کی مکھیوں کی ترقیاتی منصوبہ اور مختلف فصلوں و سبزیوں پر جاری تحقیقی سرگرمیاں و تجربات شامل تھے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمرالزمان نے تحقیقی لیبارٹریز کا بھی معائنہ کیا، جہاں سائنسدان اور طلبہ فصلوں کی جینیاتی بہتری، مٹی کی صحت، اور وسائل کے مؤثر استعمال پر مبنی زرعی نظام کی بہتری کے تجربات کر رہے ہیں۔

پاک۔چائنا سینٹر برائے جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فوکل پرسن ڈاکٹر طاہر اقبال نے وائس چانسلر کو مختلف تحقیقی منصوبوں پر بریفنگ دی، جن میں ہائی ایفیشنسی آبپاشی نظام کے تحت مکینائزڈ گندم کی کاشت پر کام نمایاں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان منصوبوں کے ذریعے پریسیژن ایگریکلچر اور جدید آبپاشی ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ کم پانی والے علاقوں میں پیداوار اور آبی استعداد میں اضافہ کیا جا سکے۔

یونیورسٹی ریسرچ فارم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام قادر نے وائس چانسلر کو یونیورسٹی محققین کی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ فیکلٹی ممبران، پوسٹ گریجویٹ طلبہ اور شراکتی ادارے جدید زرعی طریقوں کو متعارف کرانے اور کسانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے کے لیے عملی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر قمرالزمان نے فیکلٹی اور محققین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تحقیق کا اصل مقصد کسانوں کو براہِ راست فائدہ پہنچانا اور ملک کی زرعی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائنسدانوں کو ایسے منصوبوں پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے جو پیداوار میں اضافہ، وسائل کے مؤثر استعمال، اور خوراک کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری تحقیق کا مقصد لیبارٹری سے کھیت تک اثر انگیز ہونا چاہیے۔ ہر اقدام کو اس سمت میں ہونا چاہیے کہ یہ پیداوار میں بہتری، وسائل کے تحفظ اور کسانوں کی فلاح میں کردار ادا کرے تاکہ پاکستان کی زراعت عالمی سطح پر مسابقتی رہے۔

دورے کے اختتام پر وائس چانسلر نے محققین اور عملے سے ایک تعارفی نشست میں بھی گفتگو کی، جہاں انہوں نے مشترکہ تحقیق، اختراعات اور جدت کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی اور بڑھتی ہوئی غذائی ضروریات جیسے چیلنجز کا سامنا کرنے میں مدد مل سکے۔

Read in English: VC PMAS-AAUR Visits Center for Modern Agriculture & Water-Efficient Technologies at University Research Farm

Share This Article
1 تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے