وفاقی دفتر برائے ٹیکہ کاری میں منعقدہ اجلاس کی صدارت ڈاکٹر صوفیہ یونس نے کی جہاں وفاقی ادارے، عالمی ادارہ صحت پاکستان، یونیسف پاکستان، بل گیٹس فاؤنڈیشن اور ادارہ برائے ضابطہ ادویات پاکستان کے ماہرین نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی سطح کے وسعت یافتہ پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ کاری کے نمائندوں نے بھی حصہ لیا اور ملک بھر میں حفاظتی نظام کی موجودہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔شرکاء نے اتفاق کیا کہ ٹیکے کے بعد پیدا ہونے والے ضمنی اثرات کی رپورٹنگ مضبوط اور شفاف نگرانی کا ثبوت ہے، جس سے ٹیکوں کی حفاظت اور تاثیر کے بارے میں عوامی اعتماد برقرار رہتا ہے۔ ماہرین نے واضح کیا کہ درست اور مکمل رپورٹنگ ہی حفاظتی ٹیکہ کاری کے معیار کو بہتر رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔کمیٹی نے جاری نگرانی، بروقت تحقیقات اور شفاف رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا تاکہ عوامی اعتماد مضبوط رہے اور قومی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ کاری کی کامیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اجلاس میں متعلقہ اداروں کی مشترکہ ذمہ داری، معلومات کی فوری شیئرنگ اور متاثرہ کیسز کی جامع تحقیقات کو اولین ترجیحات قرار دیا گیا۔
