ایک حالیہ مباحثے میں ماہرین نے کہا کہ حالیہ کشیدگی میں امریکہ ایران مذاکرات کا امکان موجود ہے مگر اس کا حتمی نتیجہ واضح طور پر پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔ انسٹی ٹیوٹ برائے علاقائی مطالعات، اسلام آباد میں منعقدہ نشست میں شرکاء نے علاقائی امن اور ممکنہ عسکری کارروائیوں کے خطرات پر غور کیا۔جواہر سلیم نے بتایا کہ بدتر ہوتی اقتصادی صورتحال حکمرانی کو مشکل بنا رہی ہے اور اسی ناہمواری کا فائدہ بیرونی قوتیں اٹھا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ کے سخت بیانات ایک دباؤ کی حکمتِ عملی ہیں تاکہ ایران کو مذاکرات پر مجبور کیا جا سکے، مگر اس سے مذاکرات کا نتیجہ یقینی نہیں بنتا۔ریئر ایڈمرل (ریٹائرڈ) فیصل علی شاہ نے کہا کہ ایران کو صرف مغربی نقطۂ نظر سے دیکھنا درست فہم نہیں دیتا۔ ان کے بقول احتجاجات عموماً مخصوص پالیسیوں کے خلاف تھے نہ کہ نظام کے مکمل خاتمے کے تقاضے۔ بیرونی جھٹکوں نے بارہ روزہ جنگ جیسے بڑے بغاوتی منظر نامے کو جنم نہیں دیا کیونکہ بہت سے شہری استحکام اور سلامتی کو ترجیح دیتے ہیں؛ اس لیے بیرونی مداخلت کی ترویج اکثر غیر حقیقی توقعات پر مبنی ہوتی ہے۔محمد حسین باقری نے نشاندہی کی کہ ایرانی معاشرہ ایک عبوری مرحلے سے گزر رہا ہے اور بدلتی سیاسی و سماجی حرکیات کے پیشِ نظر اگر جامع سلامتی پالیسی نہ بنائیں تو طویل مدتی سماجی استحکام برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔علیرضا نادر نے کہا کہ ایرانی تارکینِ وطن واشنگٹن میں حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ امریکہ سخت اقدام کرے، تاہم کسی عسکری مداخلت کے نتیجے میں تصادم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور خطّے میں کشیدگی وسیع پیمانے پر پھیل سکتی ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ڈپلومیسی کے محدود امکانات رہتے ہیں مگر بڑی رعایتیں ملنا بعید نظر ہے۔جاوید رانا نے باور کرایا کہ ایران کے ادارے اقتصادی مشکلات کے باوجود مضبوط اور لچکدار ہیں اور انہوں نے بے چینی کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت دکھائی ہے۔ ان کے بقول امریکہ اور اسرائیل اندرونی عدم استحکام کو بطور موقع دیکھ سکتے ہیں مگر بڑے پیمانے کی جنگ کا امکان کم ہے؛ بہرحال مذاکرات ناکام ہونے پر محدود ضرب یا حملے کا خطرہ برقرار رہے گا۔مجموعی طور پر ماہرین کی رائے یہ تھی کہ امریکہ ایران مذاکرات کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتِ حال غالب ہے اور اس غیر یقینی پن کے باعث خطّے میں احتیاطی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ ڈپلومیسی کی راہیں مکمل طور پر بند نہیں، مگر کسی بھی عسکری اقدام کے نتیجے میں پھیلاؤ کا خطرہ موجود ہے اس لیے مذاکرات کی کوششیں اور سیاسی حل تلاش کرنا ضروری قرار دیا گیا۔
