کیمیائی سلامتی کی تعلیم میں امریکہ کا قدم

newsdesk
3 Min Read
امریکہ نے پاکستانی جامعات کے ساتھ مل کر کیمیائی سلامتی کا نصاب تیار کیا، جس سے سائنس و ٹیکنالوجی کے طلبہ کو محفوظ اور ذمہ دارانہ تربیت ملے گی

امریکی محکمہ خارجہ کے کیمیائی سلامتی پروگرام کے تحت سینڈیا نیشنل لیبارٹری کے ماہرین نے لاہور کی تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر ایک نیا نصاب تیار کیا ہے جو پاکستان میں کیمیائی سلامتی کو فروغ دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ تعلیمی اور عملی تربیت دونوں پر مشتمل ہے تاکہ طلبہ کو محفوظ اور ذمہ دارانہ علمی بنیاد فراہم کی جا سکے۔اس مشترکہ کوشش میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور اور پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ نے کلیدی کردار ادا کیا اور نئے نصاب کی ہم آہنگی اور ملکی تقاضوں کے مطابق تیاری میں تعاون کیا۔ مقامی اساتذہ اور بیرونی ماہرین نے مل کر کورس کے مواد، تجرباتی ورکشاپس اور حفاظتی پروٹوکولز کو ترتیب دیا۔یہ نصاب خاص طور پر ایسے طلبہ کے لیے مفید ہوگا جو آئندہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضیات میں کام کریں گے، کیونکہ انہیں عملی اصولوں اور اخلاقی ضوابط کے ساتھ ماحول اور عوامی صحت کے تحفظ کے مربوط ادراک سے روشناس کروایا جائے گا۔ کیمیائی سلامتی کے اس تجدید یافتہ نصاب کا مقصد نوجوان سائنسدانوں کو نہ صرف تکنیکی مہارت دینا ہے بلکہ ذمہ داری اور حفاظتی روایات کی پہچان بھی مضبوط کرنا ہے۔یہ سنگِ میل پاکستان میں تعلیمی، صنعتی اور سرکاری سطح پر امریکہ کے شراکت داروں کے ساتھ گہری شراکت داری کے آغاز کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تعلیمی اقدامات تحقیق، اختراع اور معاشی ترقی کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں کیونکہ محفوظ کیمیائی عمل صنعتی پیداوار اور تحقیقی منصوبوں کو مربوط انداز میں آگے بڑھانے کا موقع دیتے ہیں۔امریکی قائم مقام سفیر نیٹالی بیکر نے کہا کہ "یہ محض نصاب کا معاملہ نہیں ہے، یہ اختراع کی حوصلہ افزائی، پاکستان کی اگلی نسل کے سائنسدانوں کو بااختیار بنانا اور پاکستان اور امریکہ کے تعلیمی رشتوں کو مضبوط کرنا ہے۔” اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ پالیسی ساز اور تعلیمی رہنماؤں کے مابین تعاون طویل المدتی اثرات کا حامل ہوگا۔مقامی ماہرین اور تعلیمی حلقے امید رکھتے ہیں کہ یہ پہل ملک میں کیمیائی سلامتی کے معیار کو بہتر بناتے ہوئے مستقبل کے لیے محفوظ تحقیقی اور صنعتی ماحول تیار کرے گی، اور نوجوان ٹیلنٹ کو عالمی سطح پر مقابلے کے قابل بنائے گی۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے