آبادی میں بے ہنگم اضافہ پاکستان کے تمام مسائل کی جڑ ہے، ڈاکٹر شہزاد خان
غیر منصوبہ بند حمل، صحت، غذائی قلت اور ماحولیاتی بحران کو جنم دے رہے ہیں انکشاف
اسلام آباد: وائس چانسلر ہیلتھ سروسز اکیڈمی ڈاکٹر شہزاد خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں آبادی کا بے ہنگم اضافہ محض ایک مسئلہ نہیں بلکہ صاف پانی، صحت، غذائی قلت، تعلیم، ماحولیاتی آلودگی اور اربن پلاننگ جیسے درجنوں قومی مسائل کی بنیادی جڑ بن چکا ہے ڈاکٹر شہزاد خان نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً ایک کروڑ 28 لاکھ حمل ہوتے ہیں جن میں سے 50 فیصد غیر منصوبہ بند (Unwanted) ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ اگر خواتین کو بروقت اور معیاری فیملی پلاننگ سہولیات میسر ہوں تو یہ تعداد نمایاں طور پر کم کی جا سکتی ہےڈاکٹر شہزاد خان کے مطابق ملک میں ہر سال 38 لاکھ اسقاطِ حمل کی کوششیں ہوتی ہیں جن میں سے بڑی تعداد غیر محفوظ حالات میں کی جاتی ہےجس کے نتیجے میں خواتین کی صحت اور جان کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیںانہوں نے بتایا کہ پاکستان میں سٹل برتھ (مردہ پیدائش) کی شرح دنیا میں بلند ترین ہے اور ہر سال تقریباً 7 لاکھ بچے مردہ پیدا ہوتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ہر سال 65 لاکھ نئے بچے آبادی میں شامل ہو رہے ہیں جو کہ ایک مکمل شہر یا نیوزی لینڈ کی آبادی کے برابر ہےجبکہ ریاست کے پاس پہلے سے موجود بچوں کے لیے بھی تعلیم، صحت، غذائیت اور صاف پانی کا مؤثر انتظام موجود نہیںڈاکٹر شہزاد خان کا کہنا تھا کہ مسئلے کی ایک بڑی وجہ دیہی علاقوں میں خواتین کو فیملی پلاننگ سروسز تک رسائی نہ ہونا، ادویات کی قلت (Stock-outs) اور محدود آپشنز ہیں عورت کو انتخاب کا حق دیے بغیر ہم آبادی کے مسئلے کو حل نہیں کر سکتے انہوں نے زور دیاانہوں نے واضح کیا کہ آبادی کے مسئلے کو مذہب سے جوڑنا ایک غلط فہمی ہےقرآن میں دو سال تک بچوں کو دودھ پلانے کی تلقین کی گئی ہے جو سائنسی طور پر پیدائش میں وقفے (Birth Spacing) کی واضح دلیل ہے۔ جدید سائنس بھی یہی کہتی ہے کہ ماں کو ایک حمل کے بعد کم از کم دو سال صحت بحال کرنے کے لیے درکار ہوتے ہیں ڈاکٹر شہزاد خان نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں محکمہ آبادی کو محکمہ صحت میں ضم کرنا ایک مثبت قدم ہےجس سے سروس ڈیلیوری میں بہتری آئی ہے تاہم، انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ فیملی پلاننگ کو اب بھی صحت کے دیگر شعبوں جتنی ترجیح نہیں دی جا رہی ان کا کہنا تھا کہ یہ ریاست اور فرد دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہےمگر بنیادی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہےہمیں آبادی کم کرنے کی بات نہیں کر رہے بلکہ اس کی رفتار کو آہستہ کرنے کی بات کر رہے ہیں تاکہ ملک کے وسائل پر دباؤ کم ہو سکےآخر میں ڈاکٹر شہزاد خان نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ آبادی کے مسئلے پر مسلسل اور سنجیدہ پروگرام نشر کرے تاکہ عوام میں آگاہی بڑھے اور پالیسی ساز حقائق کی بنیاد پر فیصلے کر سکیں۔
