اتحاد اور ہم آہنگی میں مسائل کا حل

newsdesk
6 Min Read
کراچی میں ہولی ٹرینیٹی چرچ میں کانفرنس میں وزیر مملکت نے بین المذاہب ہم آہنگی کو مسائل کے حل کا بنیادی راستہ قرار دیا۔

کراچی میں ہولی ٹرینیٹی کیتھیڈرل چرچ میں منعقدہ کانفرنس میں وزیر مملکت برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی خیل داس کوہستانی نے کہا کہ ہمارے معاشرے کے تمام مسائل کا حل اتحاد اور ہم آہنگی میں پنہاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ حکومت اس مقصد کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور وفاقی وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی اقلیتوں کی بہبود اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔وزیر مملکت نے اس وزارت کی سربراہی صدر سردار محمد یوسف کے حوالہ سے کی اور کہا کہ سابق سیاسی تجربے کی بنیاد پر وزارت مزید موثر انداز میں اقلیتی برادریوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے اقلیتوں کو مین اسٹریم میں لانے کے لیے سالانہ فنڈز مختص کیے ہیں اور سرکاری سطح پر ان کے مذہبی تہواروں کی حمایت جاری ہے۔خیل داس کوہستانی نے کہا کہ جب تمام مذاہب کے درمیان اتحاد ہوگا تو ایسے فورمز کی ضرورت کم ہو جائے گی، اس لیے ایک دوسرے کے مذہبی عقائد اور تعلیمات کو سمجھنا باہمی احترام اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے میں مدد دے گا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ریاست قائداعظم کے اصولوں کے مطابق اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بناتی ہے اور وفاقی و صوبائی قیادت اس حمایت کی مثال ہیں۔وزیر مملکت نے یہ بھی کہا کہ کوئی مذہب تشدد کی حمایت نہیں کرتا، اس لیے بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایسے فورمز بین الاقوامی سطح پر بھی انعقاد ہونے چاہئیں تاکہ پاکستان کی امن پسندی اور مذہبی رواداری کا مثبت تاثر دنیا تک پہنچے۔ انہوں نے علاقائی سیاسی حالات پر مختصر طور پر تشویش کا اظہار کیا اور کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے مؤثر ردعمل کا حوالہ دیا۔صوبائی مشیر ڈاکٹر شم سنڈر اڈوانی نے کہا کہ اس سرزمین پر ہم محبت اور ہم آہنگی کے ساتھ رہتے ہیں اور ہر مذہب میں اپنی حسنِ کردار موجود ہے۔ ان کے بقول ہر بچے کی پہچان پہلے انسانیت ہے اور بعد ازاں اس کے مذہبی تعلقات بنتے ہیں۔ انہوں نے سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے ویژن کو بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں اہم قرار دیا۔بشپ فریڈرک جان نے اس قسم کے پروگراموں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو سکھانے کی ضرورت ہے کہ کس طرح ایک ساتھ رہ کر ایک دوسرے کا احترام کیا جائے۔ انہوں نے کرسمس کے موقع پر سکیورٹی فراہمی پر اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ممتاز عالم دین ڈاکٹر جمیل رتوڑ نے فرمایا کہ مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا ضروری ہے اور اسلامی تعلیمات میں انسانی حقوق کا تحفظ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے حوالہ دیا کہ پیغمبرِ اسلام نے سب سے پہلے انسانیت اور انسانی احترام کی تعلیم دی۔ غزہ کی صورتحال کے بارے میں انہوں نے ذکر کیا کہ بعض یہودی حلقوں میں احتجاج سامنے آئے جنہوں نے نیٹنزاہو کی پالیسیوں کی مخالفت کی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی ایک شخصیت کو پورے مذہب کی نمائندگی نہیں سمجھا جا سکتا۔ڈاکٹر شبیر حسین نے کہا کہ پاکستان میں اکثریت کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کو بھی عزت و مقام حاصل ہے اور اسلامی تعلیم میں کسی پر مذہب قبول کرنے کی زبردستی نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی مسیحی شہری پر حملہ ہوتا ہے تو اسے قومی سطح پر اپنے خلاف حملہ سمجھا جائے گا اور انصاف کا تقاضا کیا جائے گا۔مولانا مفتی محمد قاسوری نے کانفرنس کو قومی و بین الاقوامی سطح پر مثبت پیغام بھیجنے والا قرار دیا اور کہا کہ تمام مذاہب دوسروں کے عقائد کا احترام اور رواداری کی تعلیم دیتے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے اسلام کی تعلیمات میں امن و مروت اور ‘‘زندگی گزارنے دو اور گزارنے دواؤ‘‘ کے اصول کی اہمیت پر زور دیا۔سکھ برادری کے نمائندے سردار رمیش نے پاکستان کی وہ کشادگی ستائش کے قابل قرار دی جو کارتارپور کوریڈور کھولنے کے ذریعے دکھائی گئی، اور کہا کہ بھارت کو بھی کوریڈور کھول کر امن و مذہبی رسائی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس قسم کی کانفرنسوں کو مثبت پیغام بھیجنے والا قرار دیا جو ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان میں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو زندگی گزارنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر مہیش کمار نے کہا کہ بچوں کو مختلف مذاہب کی تعلیم دینا ضروری ہے تاکہ وہ دوسروں کے عقائد کا احترام کریں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی مذہبی عبادت کو نبھانے کے ساتھ ساتھ دوسروں کے اعتقادات کو سمجھنا اور ان کا احترام کرنا ضروری ہے، جس سے اجتماعی ہم آہنگی میں اضافہ ہوگا۔ بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کے سلسلے میں شرکاء نے مشترکہ عزم کا اظہار کیا اور آئندہ ایسے مکالماتی پروگرامز کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے