اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوترش نے ایک خصوصی تقریب میں سینیئر عہدیداروں، عملے اور نمائندوں کے ساتھ شرکت کی جہاں اقوام متحدہ کی اسیوی سالگرہ کی یاد میں پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر ادارے کی طویل خدمات اور عالمی مسائل کے حل میں اس کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔آٹھ دہائیوں میں جنگوں کو روکنا، بچوں کی تعلیم، بیماریوں کا علاج اور جانیں بچنا ایک ہی بات بتاتے ہیں کہ جب ہم متحد ہوتے ہیں تو ہر چیز ممکن ہے۔ اس بیان میں اتحاد اور اجتماعی کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا، جو اقوام متحدہ کے بنیادی نظریات سے ہم آہنگ تھا۔پروگرام میں معروف گلوکارہ ٹیوا ساویج اور دیگر فنکاروں نے شرکت کر کے محفل میں ثقافتی رنگ بھرے جبکہ وفود اور نمائندوں نے ادارہ جاتی کارکردگی اور مستقبل کے چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔ شرکاء نے اقوام متحدہ کی طویل کوششوں کو سراہا جنہوں نے تعلیم، صحت اور امن کے شعبوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔تقریب میں دیے گئے بیانات میں اس بنیادی خیال پر زور دیا گیا کہ اقوام متحدہ کے ذریعے حاصل کردہ پیش رفت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اجتماعی عزم سے بڑے مسائل کا حل ممکن ہے۔ شرکاء نے آئندہ کے لیے تعاون اور یکجہتی کی ضرورت دوہرائی۔مجلسی انداز میں منعقد ہونے والی اس تقریب نے اقوام متحدہ کی خدمات اور عالمی اتحاد کی اہمیت کو عام فہم انداز میں پیش کیا، اور شرکاء نے مشترکہ کوششوں کے ذریعے مستقبل میں مزید کامیابیوں کی امید ظاہر کی۔
