ترکی جامعات کے ایک وفد نے ادارہ برائے اعلیٰ تعلیم پاکستان سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ علمی اور تحقیقی باہمی تعاون کو وسعت دینے پر تبادلۂ خیال ہوا۔ یہ وفد ترکی کے سفیر عرفان نزیروغلو کی قیادت میں پاکستانی اعلیٰ تعلیمی حکام سے ملا تاکہ مشترکہ علمی منصوبوں اور تبادلے کے امکان پر غور کیا جا سکے۔
وفد میں پروفیسر ڈاکٹر فاتح یلماز، پروفیسر ڈاکٹر مہمت کیلیش، پروفیسر ڈاکٹر فہریتن گکташ اور پروفیسر ڈاکٹر متلو ترکمن شامل تھے جن کے ساتھ ترکی کے سفارت خانے کے دیگر نمائندے بھی موجود تھے۔ انہوں نے ادارہ برائے اعلیٰ تعلیم کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر اور متعلقہ حکام سے ملاقات کر کے تعاون کے مختلف مواقع پر تفصیلی گفتگو کی۔
بات چیت کے دوران دونوں اطراف نے خصوصی طور پر جدید شعبوں میں تعلقات مضبوط کرنے پر اتفاق کیا جن میں مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور ڈیجیٹل کاری شامل ہیں۔ اسی طرح طبی، زرعی، طبیعات، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، ادویات، سماجی علوم اور زبانوں خصوصاً اردو اور ترکی میں مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
ترکی جامعات اور پاکستانی ادارے مشترکہ اسٹوڈنٹ اور فیکلٹی ایکسچینج پروگرامز، مشترکہ تحقیق اور جدت کاری کے اقدامات، کانفرنسز، گرمیوں کے تبادلے، ماہرین کے مختصر دورے اور مشترکہ یا ڈوئل ڈگری پروگرامز کے علاوہ آن لائن تعلیمی ماڈیولز کے ذریعے علمی تعاون بڑھانے کے منصوبے زیرِ غور لائے گئے۔ دونوں فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ آن لائن اور جسمانی کورسز کے امتزاج سے وسیع سطح پر مشترکہ تعلیم ممکن بنائی جائے۔
ایک تجویز کے مطابق دونوں ملکوں کا ایک ماہرین کا پول قائم کیا جائے گا جو قدرتی، حیاتیاتی اور سماجی علوم، اسٹریٹجک اسٹڈیز، دفاعی نوعیت کی تحقیق اور عالمی منظرنامے پر مبنی پالیسی پیپرز پر مشترکہ کام کرے گا۔ اس پول میں شامل ماہرین کو وزٹنگ فیکلٹی کے طور پر نامزد کر کے جسمانی و آن لائن لیکچرز اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیاں انجام دینے کی تجویز بھی منظور کی گئی۔
چیئرمین ادارہ برائے اعلیٰ تعلیم ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے تعلیمی ترقی کے لیے تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے دیرینہ بھائیانہ تعلقات کو علمی سطح پر مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ ترکی جامعات کے ساتھ طویل المدتی شراکت کے لیے عملی فریم ورک تیار کرنے اور ماہرین کی فہرست مرتب کرنے پر دونوں اطراف نے اتفاق کیا۔
