ترکی اور ایران علاقائی مذاکرات سے خارج نہیں کیے جا سکتے

newsdesk
4 Min Read
اسلام آباد مباحثے میں ماہرین نے کہا کہ شام کے مسئلے میں ترکی اور ایران کو مذاکرات سے باہر نہیں رکھا جا سکتا، باہمی تعاون خطے کے استحکام کے لیے ضروری ہے

محترمہ فاطمہ اسدی نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جغرافیائی قربت کی وجہ سے ترکی ایران کے درمیان قدرتی شراکت موجود ہے اور انہیں علاقائی مذاکرات سے خارج کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شام کی صورت حال نہایت نازک ہے اور خطے کے تمام فریقین کے لیے مشترکہ حل تلاش کرنا ضروری ہے تاکہ غیر یقینی اور انتشار کو روکا جا سکے۔ ترکی ایران کے تناظر میں ان کا اصرار تھا کہ دونوں ملکوں کے مفادات بعض مقامات پر ملتے ہیں اور یہی حقیقت، شام میں کسی یکطرفہ تسلط کی راہ میں رکاوٹ ہے۔فاطمہ اسدی نے کہا کہ ایران کمزور ملک نہیں بلکہ اس کی ترجیحات خطے کے حوالے سے زیادہ عملی اور متوازن ہو گئی ہیں۔ انہوں نے اس نقطہِ نظر کو بھی اجاگر کیا کہ اگر اسرائیل شام کو تقسیم کرنے کی کوشش کرے تو اس سے پورے خطے میں عدم استحکام جنم لے سکتا ہے اور اسی خطرے کے پیش نظر ترکی ایک ایسے شراکت دار کی تلاش میں ہے جو شام کو ایک متحد فریم میں رکھ سکے۔ اس بحث میں بار بار ترکی ایران کے مشترکہ مفادات کا حوالہ دیا گیا۔ایڈمنڈ فٹن براون نے اس مباحثے میں کہا کہ ترکی ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک متوازن انداز میں سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ترک حکمتِ عملی میں اس بات کی حد بندی نظر آتی ہے کہ وہ بیک وقت بین الاقوامی حمایت خصوصاً امریکہ کے کردار کو بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے علاقے میں پائی جانے والی تقسیم اور ممکنہ طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے متحرک کردار کی وجہ سے ترکی کے مفادات کو لاحق خطرات کی نشاندہی کی۔ براؤن کے مطابق اگر شام میں جامع اور شمولیتی حکومت قائم نہ ہوئی تو فرقہ وارانہ کشیدگی دوبارہ جنم لے سکتی ہے جس سے بین الاقوامی شرکاء کی دلچسپی میں کمی واقع ہو سکتی ہے اور ترک بیکڈ انتظامات متاثر ہو سکتے ہیں۔فرہم ایلی یِف نے کہا کہ ترکی ایران کا تعلق اصولی بنیادوں پر نہیں بلکہ عملی مفادات اور ریئل پالیٹِک کی بنیاد پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی خطے میں اسرائیلی عمل کو ایک غیر مستحکم عنصر سمجھتا ہے اور اسی سبب سے وہ ایران کے ساتھ مل کر شام کے بحران کو مینیج کرنے پر آمادہ ہے۔ ایلی یِف نے واضح کیا کہ ترکی خود کو شام کے نئے انتظام کے حوالے سے ایک معتبر ثالث کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے، اس لیے اس کی ایران کے ساتھ شراکت وقتی اور موقعانہ بھی ہے اور تجارتی روابط کی وجہ سے مزید گہرائی اختیار کر چکی ہے۔ اسی سلسلے میں انہوں نے کہا کہ اقتصادی تعاون جو پابندیوں کے باوجود جاری ہے، دونوں ممالک کے شام میں مشترکہ مفادات کو اور مضبوط کرتا ہے۔مباحثہ میں شریک ماہرین نے اس نتیجے پر زور دیا کہ علاقائی محاذ پر استحکام کی کوششوں میں ترکی ایران کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ شراکت کا دارومدار صورتحال کے تقاضوں، نظریاتی وابستگیوں سے زیادہ عملی فائدے اور خطے میں استحکام پر ہے۔ پاکستان کے تناظر میں بھی یہ واضح ہوا کہ شام کے مستقبل کے تعین میں ترکی اور ایران کے کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے علاقائی اور بین الاقوامی فریقین کو مشترکہ مفادات تلاش کرنا ہوں گے تاکہ دیرپا امن کی راہیں کھل سکیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے