وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن اور صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی ہدایات کے تحت راولپنڈی تعلیمی بورڈ نے شفاف امتحانی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ کمشنر و چیئرمین تعلیمی بورڈ راولپنڈی انجینئر عامر خٹک کی قیادت میں مرکزی نگرانی مرکز فعال کر دیا گیا ہے جس کے ذریعے امتحانی سرگرمیوں کی براہ راست اور مسلسل نگرانی ممکن بنائی گئی ہے۔ یہ قدم شفاف امتحانی نظام کے قیام میں مرکزیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔کنٹرولر امتحانات تنویر اصغر اعوان نے اطلاع دی کہ مختلف مراکز میں نگرانی کے دوران آٹھ امیدوار نقل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے جن کے خلاف کیس درج کر کے بورڈ کی ڈسپلن شاخ کو حوالے کیا گیا ہے۔ گرفتار امیدواروں میں دو امیدوار سرکاری ایلیٹ ہائی سکول مورگاہ سے، تین امیدوار سرکاری ہائی سکول چک بیلی خان سے اور تین امیدوار سرکاری بوائز ہائی سکول جٹھہ ہتھیال سے شامل ہیں۔ تمام متاثرہ فائلیں ضابطے کے مطابق کارروائی کے لیے روانہ کی گئی ہیں۔بورڈ حکام نے امتحانی مراکز کا تفصیلی معائنہ بھی کیا جن میں سرکاری بوائز ہائی سکول ڈھوک کشمیریاں سنٹر اے بی، سرکاری گرلز اعلیٰ ثانوی اسکول ڈھوک کشمیریاں، سرکاری ایسوسی ایٹ کالج فار ویمن مری روڈ راولپنڈی، سرکاری ہائی سکول ڈھلا، سرکاری اعلیٰ ثانوی اسکول بسالی اور سرکاری بوائز ہائی سکول جٹھہ ہتھیال شامل تھے۔ معائنے کے دوران امتحانی انتظامات، حفاظتی بندوبست اور امیدواروں کے اندراج کے طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا اور جہاں ضروری تھا فوری اصلاحی ہدایات جاری کی گئیں تاکہ شفاف امتحانی نظام برقرار رہے۔حکومتِ پنجاب کی صفر رواداری پالیسی کے تحت بورڈ نے واضح کیا ہے کہ نقل مافیا کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا اور شفاف امتحانی نظام کی حفاظت کے لیے اضافی حکمتِ عملی نافذ کی جا رہی ہے۔ مرکزی نگرانی مرکز کے باعث نقل کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے اور بورڈ اس رویۂ تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے پر زور دے رہا ہے تاکہ امیدواروں کے حقوق اور میرٹ کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے، یہ بات بورڈ کے ترجمان نے بھی واضح کی۔
