تمباکو کے خلاف فیصلہ کن مرحلہ

newsdesk
5 Min Read
عالمی اجلاس میں پاکستان کے لیے واضح پیغام: تمباکو کنٹرول مضبوط کریں، ٹیکس بڑھائیں، صنعت کی مداخلت روکیں اور نوجوانوں کو بچائیں

COP11 — تمباکو سے نجات کے لیے فیصلہ کن موقع، پاکستان کو مضبوط مؤقف اپنانا ہوگا: ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر

تحریر: ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر

جنیوا میں عالمی سطح پر تمباکو کے خاتمے کے لیے منعقد ہونے والا گیارہواں اجلاس (COP11) اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا صحت کے تحفظ کے لیے متحد ہو رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے فریم ورک کنونشن برائے تمباکو کنٹرول (WHO FCTC) نے گزشتہ دو دہائیوں میں لاکھوں جانیں بچائی ہیں — اور اگر اس پر مؤثر عمل جاری رہا تو یہ مزید لاکھوں زندگیاں بچا سکتا ہے، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

عالمی معاہدے WHO FCTC نے حکومتوں کو تمباکو کے استعمال میں کمی لانے کے لیے واضح روڈ میپ فراہم کیا۔ اس میں تمباکو پر زیادہ ٹیکس، عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی، اشتہارات کی بندش، اور سگریٹ پیکٹس پر تصویری وارننگز جیسے اقدامات شامل ہیں جن سے نمایاں نتائج سامنے آئے۔ ان ممالک میں جہاں اس کنونشن پر مکمل عمل درآمد کیا گیا، وہاں سگریٹ نوشی کی شرح میں نمایاں کمی، صحت کے اخراجات میں کمی اور عوامی صحت میں بہتری دیکھی گئی۔

پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے WHO FCTC کی توثیق کی، لیکن اس پر عمل درآمد اب بھی کمزور اور غیر مساوی ہے۔ قومی اعدادوشمار کے مطابق، پاکستان میں ہر سال 1 لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد تمباکو سے متعلق امراض کا شکار ہو کر جاں بحق ہو جاتے ہیں۔ تمباکو نہ صرف انسانی صحت بلکہ معیشت پر بھی تباہ کن اثرات ڈال رہا ہے، جہاں ہر سال علاج معالجے اور پیداواری صلاحیت میں اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر کے مطابق، تمباکو کی صنعت اپنے منافع کے لیے عوامی صحت دشمن پالیسیاں کمزور کرنے میں سرگرم ہے۔ کمپنیاں نوجوان نسل کو سوشل میڈیا، کھیلوں کی اسپانسرشپ، انفلوئنسرز، ای سگریٹس اور نکوٹین پوچز کے ذریعے نشانہ بنا رہی ہیں، جنہیں "محفوظ متبادل” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ وہی کمپنیاں ہیں جو دہائیوں تک اس حقیقت سے انکار کرتی رہیں کہ سگریٹ کینسر کا سبب بنتا ہے۔

COP11 کے موقع پر ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر نے زور دیا کہ حکومتوں کو تمباکو کی صنعت کی مداخلت کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا اور WHO FCTC کے مکمل نفاذ کو یقینی بنانا ہوگا۔ ان کے مطابق پاکستان نے کچھ پیش رفت ضرور کی ہے — جیسے اشتہارات پر پابندی، تصویری وارننگز اور عوامی مقامات کو اسموک فری زون قرار دینا — لیکن عمل درآمد کمزور اور قانون میں سقم باقی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تمباکو پر ٹیکس خطے میں سب سے کم ہیں، جس کی وجہ سے سگریٹ نوجوانوں کے لیے سستا اور آسان ہے۔ ساتھ ہی نئی نکوٹین مصنوعات ایک اور نسل کو نشے میں مبتلا کرنے کا خطرہ پیدا کر رہی ہیں۔

ڈاکٹر ڈوگر کے مطابق، COP11 پاکستان کے لیے ایک تاریخی موقع ہے کہ وہ عوامی صحت کے تحفظ کے لیے اپنا عزم دہرا سکے۔ “پاکستان کو چاہیئے کہ تمباکو پر ٹیکس ہر سال بڑھائے، ڈیجیٹل مارکیٹنگ سمیت ہر طرح کی تمباکو تشہیر پر مکمل پابندی عائد کرے، اور پالیسی سازی میں شفافیت یقینی بنائے تاکہ تمباکو مافیا کا اثر ختم ہو۔”

انہوں نے کہا کہ “جہاں حکومتیں مضبوطی سے کھڑی رہتی ہیں، وہاں تمباکو کا استعمال گھٹتا ہے؛ اور جہاں وہ جھجک دکھاتی ہیں، وہاں صنعت خلا سے فائدہ اٹھاتی ہے۔”

ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر نے واضح کیا کہ “ہر تاخیر مزید جانیں لے رہی ہے، ہر سمجھوتہ مزید بچوں کو نشے اور بیماری کی طرف دھکیل رہا ہے۔” ان کے مطابق WHO FCTC ایک مؤثر ڈھال ہے، بشرطیکہ ممالک اس کے نفاذ میں ہچکچاہٹ نہ دکھائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر پاکستان جنیوا میں مضبوط مؤقف اپنائے اور عوامی صحت کو صنعت کے مفادات پر ترجیح دے، تو وہ نہ صرف اپنی قوم بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی تمباکو کے تباہ کن اثرات سے بچا سکتا ہے۔


(مصنف بچوں کے حقوق اور عوامی صحت کے سرگرم کارکن ہیں اور سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ (SPARC) میں پروگرام منیجر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔)
Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے