سفیر محمد سعید سرور نے اوِیسِنا تاجک ریاستی میڈیکل یونیورسٹی کے معزز ریکٹر سے حالیہ ملاقات کے دوران پاکستانی طبی طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی معاملات کو مزید آسان بنانے پر تفصیلی گفتگو کی۔ ملاقات میں طلبہ کے روزمرہ مسائل اور ان کے تعلیمی تسلسل کو برقرار رکھنے کے عملی طریقوں پر توجہ مرکوز رہی۔بات چیت میں یونیورسٹی اور سفارتخانہ کے درمیان قریبی رابطے کو فروغ دینے کی ضرورت زیرِ بحث آئی تاکہ تعلیمی ریکارڈ، امتحانی امور اور نصابی تعاون میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو بروقت حل کیا جا سکے۔ پاکستانی طبی طلبہ کے تعلیمی حقوق اور سہولتوں کی بحالی کے لئے دونوں فریق ممکنہ تعاون کے راستے تلاش کرنے پر متفق نظر آئے۔ملاقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ قیام اور رہائش کے معاملات میں طلبہ کو درپیش مشکلات پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور سفارتخانہ یونیورسٹی کے ساتھ مل کر مناسب رہائشی انتظامات اور مقامی ضوابط کے حوالہ سے رہنمائی فراہم کرے گا۔ پاکستانی طبی طلبہ کی حفاظت اور فلاح و بہبود کو اولین ترجیح قرار دیا گیا۔بات چیت میں ممکنہ اقدامات میں ویزا سے متعلق آسانیاں، رہائش کے انتظامات میں معاونت، تعلیمی دستاویزات کی توثیق اور یونیورسٹی کی انتظامیہ سے براہِ راست رابطہ شامل رہے۔ ان تجاویز کا مقصد طالب علموں کے تعلیمی سفر کو بغیر توقف کے آگے بڑھانا بتایا گیا۔سفارتخانہ نے یونیورسٹی کے ساتھ باقاعدہ رابطے جاری رکھنے اور جلد از جلد عملی رہنمائی فراہم کرنے پر زور دیا، جبکہ ریکٹر نے طلبہ کے مسائل کے حل میں تعاون کی آمادگی ظاہر کی۔ اس ملاقات سے پاکستانی طبی طلبہ کو مقامی تعلیمی نظام میں بہتر مدد ملنے کی امید جگی ہے۔مجموعی طور پر یہ گفت و شنید پاکستانی طبی طلبہ کے مفاد میں ایک مسئولانہ قدم کے طور پر دیکھی گئی اور مستقبل میں تعاون کے مزید امکانات تلاش کرنے پر اتفاق رائے سامنے آیا، جس سے پاکستانی طبی طلبہ کی صورتِ حال میں بہتری کے امکانات بڑھیں گے۔
