سویڈن کے وزیراعظم کا ChatGPT پر انحصار، سیاسی بحث میں اضافہ

newsdesk
2 Min Read

سویڈن کے وزیراعظم اُولف کرسٹرسن نے اعتراف کیا ہے کہ وہ سرکاری کاموں میں اکثر جدید مصنوعی ذہانت کے ٹولز، جیسے چیٹ جی پی ٹی اور فرانس کا لی چیٹ، سے مشورہ لیتے ہیں، جس پر انہیں سیاسی اور تعلیمی حلقوں، میڈیا اور مخالف سیاسی رہنماؤں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ان ایپس کا تواتر سے استعمال کرتے ہیں، البتہ حساس یا خفیہ معاملات پر ان پر ہرگز بھروسہ نہیں کرتے۔ اس کے باوجود ناقدین کا مؤقف ہے کہ ایسے پلیٹ فارمز کو حکومتی فیصلوں کے لیے استعمال کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ ان میں سیاسی بصیرت اور ذمہ داری کا فقدان ہوتا ہے۔ کئی ماہرین کے مطابق یہ رویہ پالیسی سازی میں احتساب کے اصولوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

میڈیا اور تبصرہ نگاروں نے بھی خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر ضرورت سے زیادہ انحصار حکومت میں سنجیدہ مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ ایک معروف اداریے نے تو صورت حال کو "مصنوعی ذہانت کے زیراثر نفسیاتی کیفیت” قرار دیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ملک کا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز سرکاری امور میں چیٹ جی پی ٹی جیسے ٹولز سے رہنمائی لے گا تو پالیسی سازی اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے درمیان فرق معدوم ہوتا جائے گا، جو خطرناک رجحان ثابت ہوسکتا ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے