آج 21 ستمبر کو سفارتخانہ سویڈن نے اسلام آباد میں عالمی یومِ امن کی مناسبت سے سرگرمیوں کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر زور دیا گیا کہ امن کی بقا کے لیے فرد اور معاشرہ دونوں کی ذمہ داری ہے اور ہر سال اس دن چوبیس گھنٹے کے لیے قیامِ امن اور عدم تشدد کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔عالمی یومِ امن اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے رکنِ ممالک کی مشترکہ منظوری کے بعد تسلیم کیا تھا تاکہ ایک مخصوص دن پر جنگ بندی اور پرامن رہنمائی کو فروغ دیا جا سکے۔ اس سال اس دن کا مرکزی پیغام اس بات پر تھا کہ ہر فرد کو امن کے لیے عملی قدم اٹھانا چاہیے اور یہ ذمہ داری عالمی سطح پر مشترک ہے۔سفارتخانہ نے اس سال کے موضوع "اب امن کے لیے اقدام” کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امن صرف بیانیہ نہیں بلکہ روزمرہ کاموں اور پالیسیوں میں عملی ترجمانی کا تقاضا کرتا ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے معاشرتی استحکام، نوجوانوں کی پرورش اور تعلیمی پروگراموں کے ذریعے امن و تعاون کی تدبیرات پر بات کی۔سویڈن نے واضح کیا کہ وہ صنفی مساوات کو بطور وسیلہ امن کے فروغ کے اہم ستون سمجھتا ہے اور خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنانے پر خاص توجہ دیتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ سویڈش ترقیاتی معاونت کے ذریعے وہ مختلف علاقوں میں امن سازی کے منصوبوں کی حمایت کرتے ہیں تاکہ مقامی ادارے مضبوط ہوں اور آئندہ نسلوں کو امن و تعاون کی تعلیم مل سکے۔سفارتخانہ کے مطابق مقامی شراکت داروں اور بین الاقوامی کوششوں کے ذریعے ایک زیادہ پرامن دنیا کا قیام ممکن ہے اور اس ضمن میں پاکستان میں کیے جانے والے اقدامات امن کے عالمی اہداف کے ساتھ مربوط ہیں۔ عالمی یومِ امن کے موقع پر ان پیغامات کا مقصد معاشرتی سطح پر شعور بیدار کرنا اور عملی اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔
